| 85089 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے پڑوس میں اہل تشیع حضرات رہتے ہیں اور وہ ہمیں کھانے پینے کی اشیاء بھیجتے ہیں تو وہ ہم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟جبکہ وہ نذر و نیاز نہیں بلکہ بطور پڑوسی بھیجا جاتا ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام حالات میں فی نفسہ اہل تشیع کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے،لہٰذا اگر وہ اپنے گمراہ کن عقائدکی بنیاد پر کھانے پینے کی کوئی چیز تیار کرکے بھیجنے کے بجائے، فقط پڑوسی ہونے کی بنیادپرکوئی حلال چیزبھیجتے ہیں تو اسے قبول کرنا اور کھانا جائز ہے،البتہ اگر ان کے ساتھ تعلقات رکھنے میں اپنے عقائد خراب ہونے یا کسی اور دینی خرابی کا اندیشہ ہوتو ان کے شر سے حفاظت کے پیش نظر حکمت و مصلحت کے ساتھ ان سے قطع تعلقی اختیار کرنا ضروری ہے۔
شیعہ کے عقائداوراحوال سے متعلق تفصیل جاننے کے لیے احسن الفتاوی میں حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ کا تحریر کردہ رسالہ "حقیقت شیعہ" اور "ضمیمہ رسالہ حقیقت شیعہ"مطالعہ فرمائیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (5/ 347)
قال محمد - رحمه الله تعالى - ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل …....ولا بأس بطعام اليهود والنصارى كله من الذبائح وغيرها ويستوي الجواب بين أن يكون اليهود والنصارى من أهل الحرب أو من غير أهل الحرب وكذا يستوي أن يكون اليهود والنصارى من بني إسرائيل أو من غيرهم كنصارى العرب ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام ولم يذكر محمد - رحمه الله تعالى - الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط. الفتاوى الهندية (5/ 347)
ولا بأس بضيافة الذمي وإن لم يكن بينهما إلا معرفة كذا في الملتقط.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۱۷.ربیع الثانی۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


