| 85947 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
ہماری تعمیرات کے ٹھیکیدار طے شدہ کام سے جو کام اضافی کرتے ہیں، اس پر ان کو جو لاگت آتی ہے، وہ ہم سے اس لاگت کا پندرہ فیصد اپنی نگرانی کی مد میں وصول کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں ٹھیکیدار کی نگرانی کی فیس اور کنسلٹینسی کے چارجز مقرر کرنے کا یہی طریقہ رائج ہے، اس کی فیس لاگت کے ساتھ مربوط ہوتی ہے اور فیصدی حساب سے ہوتی ہے۔ اضافی کام سے مراد یہ ہے کہ جو ایگریمنٹ کی رو سے ان کے ذمے میں نہیں ہوتا۔ البتہ ہم نے ان سے کہا ہے کہ جو کام آپ کو اضافی کرنا ہو، ہمیں پہلے اس کی متوقع لاگت (Quotation) دیں گے، جب ہم اس کی منظوری دیں گے تو پھر آپ وہ کام کریں گے اور اس لاگت کا پندرہ فیصد آپ کو نگرانی کے بدلے میں ملے گا۔ اب وہ بعض دفعہ اضافی کام ہماری اجازت کے بغیر کرلیتے ہیں اور کبھی اجازت سے کرتے ہیں، لیکن جب بل دیتے ہیں تو وہ حقیقی لاگت سے بہت زیادہ ہوتا ہے، کبھی دو گنا اور کبھی تین گنا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ٹھیکیدار کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، جبکہ وہ اپنی نگرانی کے چارجز الگ سے لیتا ہے؟ کیا اس کے لیے حقیقی لاگت اور اپنی نگرانی کے پندرہ فیصد سے زیادہ رقم لینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق ٹھیکیدار کے لیے آپ کی اجازت کے بغیر اضافی کام کرنا اور بل میں حقیقی لاگت سے زیادہ رقم شامل کرنا جائز نہیں، سخت حرام ہے، اس کو صرف حقیقی لاگت اور اس کے مطابق اپنے چارجز وصول کرنے کا حق ہے۔ لہٰذا ٹھیکیداروں پر لازم ہے کہ وہ اضافی کام کرنے سے پہلے مالک سے منظوری (Approval) لیں، اور بل میں حقیقی لاگت سے ایک روپے بھی زیادہ شامل نہ کریں۔
حوالہ جات
رد المحتار (6/ 63):
تتمة: قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار
فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/جمادی الآخرة/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


