03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواتین کا نماز کے لیے مسجد جانے کا حکم
86044نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

جامعۃ الرشید کے ایک معروف مفتی صاحب کا کلپ دیکھا، فرما رہے تھے کہ آج کے دور میں علم کی ضرورت اور فتنوں سے لوگوں کو بچانے کی اہمیت اسلام کے ابتدائی زمانے سے کہیں زیادہ ہے، اس وقت خواتین علم کے لیے اور نماز کے لیے مساجد آیا کرتی تھیں، تو آج کے دور میں جب ہر طرف سے فتنے کا ماحول ہے اور وہ جہاں چاہتی ہیں، آتی جاتی ہیں جس سے ان کے فتنہ میں پڑنے کا خدشہ اور زیادہ ہوگیا ہے، تو ایسے میں ان کو مساجد میں آنے کی بھی اجازت دینی چاہیے، مسجد ان کو شریعت سے واقف کرانے کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ اسی طرح جب عورتوں کے لیے مدارس میں علم حاصل کرنے کے لیے جانا جائز ہے جہاں بسا اوقات ایک مرد استاذ پڑھاتا ہے اور مسجد کی نسبت فتنہ کا خدشہ زیادہ ہے، تو مسجد میں آنے سے کیوں روکا جاتا ہے؟  

اس بارے میں دار الافتاء جامعۃ الرشید کی رائے کیا ہے؟  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خواتین کا نماز کے لیے مسجد جانے سے متعلق دو صورتیں الگ الگ سمجھنا ضروری ہے:

(1)۔۔۔ خواتین کا قصداً اور مستقلاً نماز کے لیے مسجد جانا:

اس بارے میں دار الافتاء جامعۃ الرشید کی عمومی رائے اب تک وہی ہے جو فقہائے احناف رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ کریمہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آراء کی روشنی میں قائم فرمائی ہے، اور وہ یہ ہے کہ خواتین کا صرف مسجد کی جماعت میں شامل ہونے کے لیے اپنے گھروں سے نکلنا درست نہیں، وہ گھروں میں نماز پڑھنے کا اہتمام کریں۔  

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ عہدِ رسالت علی صاحبہا الصلاۃ والسلام میں خواتین کو نماز کے لیے مسجد آنے کی اجازت تھی، سننِ ابی داؤد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا تمنعوا إماء الله مساجد الله، ولكن ليخرجن وهن تفلات" اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد میں آنے سے نہ روکو، مگر وہ بھی اس بات کا اہتمام کریں کہ زیب وزینت کے بغیر نماز کے لیے نکلیں، یعنی زیب وزینت کر کے مسجد نہ جائیں۔ لیکن یہ اجازت صرف اباحت اور جواز کے درجے میں تھی، افضلیت اور ترغیب کے درجے میں نہیں۔ چنانچہ:-

سننِ ابی داؤد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بنِ عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا تمنعوا نساءكم المساجد، وبيوتهن خير لهن" تم اپنی خواتین کو (نماز کے لیے) مساجد (جانے) سے منع نہ کرو، البتہ ان کے گھر ان کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔  

مستدرکِ حاکم میں ام المؤمنین حضرت امِ سلمۃ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خير مساجد النساء قعر بيوتهن"  عورتوں کی سب سے بہترین مسجد ان کے گھروں کا اندرونی حصہ ہے۔

سننِ ابی داؤد اور مستدرکِ حاکم میں روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها" گھر کے کمرے میں عورت کی نماز گھر کے احاطے کی نماز سے بہتر ہے ، اور کمرے کی اندورنی کوٹھی کی نماز کمرے کی نماز سے بہتر ہے۔  

صحیح ابنِ حبان، صحیح ابنِ خزیمہ اور مسندِ احمد میں روایت ہے کہ حضرت امِ حمید رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ (مسجدِ نبوی میں) نماز پڑھنا پسند کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بات کا علم ہے کہ آپ میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہیں، لیکن آپ کی گھر کی اندرونی کوٹھی کی نماز کمرے میں نماز سے بہتر ہے، اور کمرے کی نماز گھر کے احاطے میں نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے احاطے کی نماز اپنی قوم کی مسجد میں نماز سے بہتر ہے، اور اپنی قوم کی مسجد میں نماز میری مسجد میں نماز سے بہتر ہے۔ اس حدیث کے راوی عبد اللہ بن سوید انصاری رحمہ اللہ جو حضرت امِ حمید رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ہیں، فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد ام حمید رضی اللہ عنہا کے حکم پر ان کے لیے کمرے کے بالکل آخری کونے میں نماز کی جگہ بنائی گئی اور وہ وہیں نماز پڑھتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگئیں۔  

پھر یہ اجازت بھی کئی شرائط کے ساتھ مشروط تھی، مثلاً یہ کہ خواتین زیب و زینت کر کے نہ آئیں، خوشبو لگا کر نہ آئیں، مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہو، عورتوں کی صف سب سے آخر میں ہو، عورتیں مسجد سے پہلے نکلیں، پھر مرد نکلیں، بعض اوقات یہ بھی فرمایا گیا کہ عورتیں اس وقت تک سجدے سے سر نہ اٹھائیں جب تک مرد سر نہ اٹھائیں۔ یہ تمام امور مختلف احادیث میں مذکور ہیں جو حوالہ جات میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ (نوادر الفقہ:1/270)      

یہ تو اس زمانے کی بات تھی جب آپ علیہ السلام بنفسِ نفیس موجود تھے، وحی کے نزول کا سلسلہ جاری تھا، مسجدِ نبوی علی صاحبہ الصلاۃ والسلام تعلیمِ دین کا مرکز تھا، اس وقت بھی مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ خواتین کو مسجد آنے کی صرف اجازت تھی، ترغیب نہیں تھی۔  

لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے تو مختلف حضرات نے اس رائے کا اظہار فرمایا کہ اب عورتوں کو نماز کے لیے مسجد نہیں آنا چاہیے،صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرزِ عمل کو دیکھتے جو خواتین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اختیار کیا ہے تو انہیں مساجد آنے سے روکتے، جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روکا گیا تھا۔ یعنی جن شرائط کے ساتھ خواتین کو مسجد آنے کی اجازت دی گئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے زمانے میں ہی ان میں کوتاہی شروع ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ ارشاد فرمایا۔ حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں خواتین کی آمد کو ناپسند فرماتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی مروی ہے کہ وہ خواتین کو مسجد میں آنے سے منع فرماتے تھے۔  

جب خیر القرون میں حالات کی تھوڑی بہت تبدیلی کی وجہ سے متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خواتین کی مسجد آمد کو ناپسند فرمایا اور اس سے منع فرمایا تو آج کے پر فتن دور میں تو بدرجۂ اولیٰ اس کی ممانعت ہوگی؛ کیونکہ آج نہ تو مجموعی حالات اس وقت سے بہتر ہیں، نہ ان شرائط کی رعایت آسان ہے جن کے ساتھ عہدِ نبوی علی صاحبہ الصلاۃ والسلام میں خواتین کو مسجد جانے کی اجازت تھی، نہ ہی وہ مصالح اور فوائد موجود ہیں جو اس وقت تھے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں ایک جگہ نماز کے لیے خاص کرے، جہاں گھر کی خواتین  اور بچے بچیاں نماز پڑھیں، اس سے ان کو مسجد اور عبادت کا ماحول بھی ملے گا اور خشوع خضوع بھی حاصل ہوگا۔  

(2)۔۔۔ کسی ضرورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں مسجد جانا:

اگر خواتین پہلے سے کسی کام کے لیے گھر سے باہر نکلی ہوں یا سفر میں ہوں اور راستے میں نماز کا وقت ہوجائے تو کیا وہ مسجد جاسکتی ہیں یا نہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر گھر پہنچنے تک نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو تو مسجد جاکر مردوں سے الگ پردے میں نماز پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں، اس لیے مساجد کے ساتھ عورتوں کے لیے نماز پڑھنے کی الگ جگہ بنانے کا اہتمام ہونا چاہیے، بالخصوص بڑے شہروں میں؛ تاکہ خواتین بوقتِ ضرورت وہاں نماز ادا کرسکیں۔ (باستفادۃٍ من انعام الباری : 4/171)

(3)۔۔۔ چند شبہات کی وضاحت:-

(1)۔۔۔ موجودہ دور میں خواتین کا مسجد میں آنا کیوں درست نہیں، حالانکہ مسجد آنے سے وہ دین سے قریب ہوں گی اور دین کی تعلیم حاصل کریں گی؟

جواب: خواتین کی دینی تعلیم کی اہمیت مسلم ہے، لیکن اس کے لیے ایسے وسائل اور طریقے موجود ہیں جن میں یا تو گھر سے نکلنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی،  یا اگر نکلنا بھی پڑے تو ایسی جگہ جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی جہاں مرد بھی جمع ہوں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طریقے کو خواتین کے لیے افضل فرمایا، اسی پر عمل کیا جائے، اور تعلیم گھر پر ہی حاصل کی جائے یا خواتین کے ماحول میں جا کر وہاں حاصل کی جائے، آج کل تقریبا ہر جگہ خواتین کے لیے الگ دینی تعلیم کا نظام موجود ہے۔

 (2)۔۔۔۔ جب لڑکیوں کے لیے مدارس جانا جائز ہے تو مساجد جانا کیوں جائز نہیں؟

جواب: خواتین کے مسجد جانے کو لڑکیوں کے مدارس جانے پر قیاس کرنا درست نہیں؛ کیونکہ اگر کسی خاتون کی تعلیم گھر پر ہوسکتی ہو تو اس کے لیے بلاشبہہ گھر پر رہ تعلیم حاصل کرنا اصل اور افضل ہے۔ لیکن چونکہ آج کل عام طور سے ایسا نہیں ہوتا اور تعلیم ایک بنیادی ضرورت ہے؛ اس لیے خواتین کو سخت اور کڑی شرائط کے ساتھ مدرسہ جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ پھر اس کے لیے دن میں ایک دفعہ آنا جانا ہوتا ہے، مرد اور خواتین کو ایک ہی وقت میں ایک ہی راستے سے ایک ہی جگہ کی طرف جانا نہیں ہوتا، مدرسے میں صرف خواتین ہی ہوتی ہیں، اکابر علمائے کرام اس بات کی تاکید فرماتے ہیں کہ بنات کے مدارس میں انتظام اور تدریس دونوں کام خود خواتین ہی کریں، اگر بوقتِ ضرورت مرد اساتذہ (خواتین جہاں ہوں، وہاں سے جدا) دوسری جگہ سے مائیک کے ذریعے تدریس کریں اور فتنہ میں پڑنے کا خطرہ نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے، ورنہ اس کی بھی گنجائش نہیں۔ جبکہ نماز کے لیے مسجد جانے کا معاملہ ایسا نہیں؛ کیونکہ گھر پر نماز پڑھنے میں کوئی گناہ، مشکل یا رکاوٹ نہیں، بلکہ اسی کو احادیث میں افضل قرار دیا گیا ہے، نیز مسجد میں دن میں پانچ مرتبہ کثیر تعداد میں ہر قسم کے لوگ آتے جاتے ہیں، ایک ہی وقت میں ایک ہی راستے سے مسجد آتے جاتے اختلاط اور ایک دوسرے سے بار بار آمنا سامنا ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے؛ اس لیے اس کو مدرسہ پر قیاس کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔    

(3)۔۔۔ عورتیں تو ویسے بھی باہر جاتی ہیں، جب دوسری جگہوں پر جا سکتی ہیں تو مسجد کیوں نہیں جاسکتیں؟

جواب: خواتین کے لیے شریعت کا حکم یہی ہے کہ وہ حتی الامکان گھروں میں رہیں، بلاضرورت یا حاجت گھر سے باہر نہ نکلیں، کسی ضرورت سے جانا پڑے تو مکمل پردہ کر کے جائیں اور ضرورت پوری ہوتے ہی فورا گھر واپس آئیں۔ ان احکام کی خلاف ورزی جائز نہیں، اگر ان کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو اس کا تقاضا ہے کہ خواتین کو اپنے گھروں یا پھر ان کی دینی تعلیم کے لیےبنائی گئی خاص تعلیم گاہوں اور مدارس میں ان احکام کی تعلیم دی جائے اور ان پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے، نہ یہ کہ اس سے گھروں سے نکلنے کا ایک اور راستہ کھولنے پر استدلال کیا جائے۔

(4)۔۔۔ بعض مفتیانِ کرام کی رائے:

یہاں تک دار الافتاء کے عمومی موقف کا بیان مکمل ہوا۔ البتہ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ اگر مسجد کے ساتھ متصل مگر مردوں کی گزر گاہ سے ہٹ کر جگہ بنائی جائے اور اس کا دروازہ الگ ہو تو خواتین جمعہ، عیدین اور اس نماز کے لیے وہاں جاسکتی ہیں جس کے بعد درسِ قرآن یا درسِ حدیث کا اہتمام ہو، بشرطیکہ مکمل پردے کا اہتمام کر کے جائیں، گھروں سے خوشبو لگا کر نہ نکلیں، اپنی زیب و زینت ظاہر نہ کریں اور مردوں کے ساتھ کسی قسم کا اختلاط نہ ہو۔

حوالہ جات

سنن أبي داود (1/ 423):

حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة عن أبي هريرة، أن رسول الله  صلى الله عليه وسلم قال: «لا تمنعوا إماء الله مساجد الله، ولكن ليخرجن وهن تفلات».

حدثنا عثمان بن أبى شيبة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا العوام بن حوشب حدثنى حبيب بن أبي ثابت عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « لا تمنعوا نساءكم المساجدوبیوتهن خیر لهن».

المستدرك للإمام الحاکم(1/ 209):

عن أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم: «خير مساجد النساء قعر بيوتهن».

حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الزاهد الأصبهاني ثنا أحمد بن مهدي بن رستم الأصبهاني ثنا عمرو بن عاصم الكلابي ثنا همام عن قتادة عن مورق عن أبي الأحوص عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها».

 هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه، وقد احتجا جميعا بالمورق بن مشمرخ العجلي.

صحيح ابن حبان (5/ 595):

أخبرنا أحمد بن علي بن المثنى حدثنا هارون بن معروف حدثنا ابن وهب حدثنا داود بن قيس عن عبد الله بن سويد الأنصاري عن عمته أم حميد امرأة أبي حميد الساعدي أنها جاءت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله! إني أحب الصلاة معك، قال:  «قد علمت أنك تحبين الصلاة معي وصلاتك في بيتك خير من صلاتك في حجرتك وصلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك وصلاتك في دارك خير من صلاتك في مسجد قومك وصلاتك في مسجد قومك خير من صلاتك في مسجدي».  قال : فأمرت، فبني لها مسجد في أقصى شيء من بيتها وأظلمه، وكانت تصلي فيه حتى لقيت الله جل وعلا.

صحيح ابن خزيمة (2/ 815):

باب اختيار صلاة المرأة في حجرتها على صلاتها في دارها، وصلاتها في مسجد قومها على صلاتها في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم وإن كانت صلاة في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم تعدل ألف صلاة في غيرها من المساجد، والدليل على أن قول النبي صلى الله عليه وسلم: «صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد»، أراد به صلاة الرجال دون صلاة النساء: -

أخبرنا أبو طاهر، نا أبو بكر، نا عيسى بن إبراهيم الغافقي، ثنا ابن وهب، عن داود بن قيس، عن عبد الله بن سويد الأنصاري، عن عمته، امرأة أبي حميد الساعدي: أنها جاءت النبي  صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! إني أحب الصلاة معك. فقال: «قد علمت أنك تحبين الصلاة معي، وصلاتك في بيتك خير من صلاتك في حجرتك، وصلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك، وصلاتك في دارك خير من صلاتك في مسجد قومك، وصلاتك في مسجد قومك خير من صلاتك في مسجدي». فأمرت، فبني لها مسجد في أقصى شيء من بيتها وأظلمه، فكانت تصلي فيه حتى لقيت الله عزوجل.

صحيح مسلم (1/ 328-326):

باب أمر النساء المصليات وراء الرجال أن لا يرفعن رؤوسهن من السجود حتى يرفع الرجال:

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال لقد رأيت الرجال عاقدي أزرهم في أعناقهم مثل الصبيان من ضيق الأزر خلف النبي صلی الله عليه وسلم فقال قائل: يا معشر النساء لا ترفعن رؤوسكن حتى يرفع الرجال.

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن محمد بن عجلان حدثني بكير بن عبد الله بن الأشج عن بسر بن سعيد عن زينب امرأة عبد الله قالت: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا شهدت إحداكن المسجد فلا تمس طيبا.

 صحيح البخاري (1/ 172):

حدثنا عبد الله بن محمد حدثنا عثمان بن عمر أخبرنا يونس عن الزهري قال حدثتني هند بنت الحارث أن أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أخبرتها أن النساء في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم كن إذا سلمن من المكتوبة قمن، وثبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن صلى من الرجال ما شاء الله، فإذا قام رسول الله صلى الله عليه وسلم قام الرجال.

حدثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك ح وحدثنا عبد الله بن يوسف قال أخبرنا مالك عن يحيى بن سعيد عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة قالت: إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي الصبح، فينصرف النساء متلفعات بمروطهن ما يعرفن من الغلس.

سنن أبي داود (7/ 543):

حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز -يعني ابن محمد- عن أبى اليمان، عن شداد بن أبي عمرو بن حماس، عن أبيه، عن حمزة بن أولى أسيد الأنصاري عن أبيه، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو خارج من المسجد، فاختلط الرجال مع النساء في الطريق، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للنساء: « استأخرن؛ فإنه ليس لكن أن تحققن الطريق، عليكن بحافات الطريق». قال: فكانت المرأة تلصق بالجدار، حتى إن ثوبها ليتعلق بالجدار من لصوقها به.

سنن ابن ماجه (2/ 1326):

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة وعلي بن محمد قالا حدثنا عبيد الله بن موسى عن موسى بن موسى بن عبيدة عن داود بن مدرك عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم جالس في المسجد . إذ دخلت امرأة من مزينة ترفل في زينة لها في المسجد . فقال النبي صلى الله عليه و سلم:  «يا أيها الناس انهوا نساءكم عن لبس الزينة والتبختر في المسجد . فإن بني إسرائيل لم يلعنوا حتى لبس نساؤهم الزينة وتبخترن في المساجد».  

صحيح البخاري (1/ 173):

حدثنا عبد الله بن يوسف قال أخبرنا مالك عن يحيى بن سعيد عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها قالت: «لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل». قلت: لعمرة أومنعن؟ قالت: نعم.

صحيح ابن خزيمة  (2/ 818):

باب ذكر الدليل على أن النهي عن منع النساء المساجد كان إذ كن لا يخاف فسادهن في الخروج إلى المساجد. 

أخبرنا أبو طاهر، نا أبو بكر، نا أحمد بن عبدة، نا حماد -يعني ابن يزيد-؛ ح وثنا عبد الجبار بن العلاء، نا سفيان، كلاهما عن يحيى؛ ح وحدثنا علي بن خشرم، أخبرنا ابن عيينة، قال: حدثني يحيى بن سعيد، عن عمرة قالت: سمعت عائشة رضي الله عنها تقول: لو رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء بعده لمنعهن المساجد، كما منعت نساء بني إسرائیل، فقلت:

ما هذه؟ أو منعت نساء بني إسرائيل؟ قالت: نعم.هذا حديث عبد الجبار. وقال أحمد في حديثه: قلت لعمرة: ومنع نساء بني إسرائيل؟.

مصنف ابن أبي شيبة - ترقيم عوامة (2/ 384):

7699- حدثنا وكيع ، حدثنا سفيان ، عن أبي فروة الهمداني ، عن أبي عمرو الشيباني ، قال : رأيت ابن مسعود يحصب النساء يخرجهن من المسجد يوم الجمعة.

7700- حدثنا وكيع ، حدثنا إياس بن دغفل ، قال : سئل الحسن عن امرأة جعلت عليها إن أخرج زوجها من السجن أن تصلي في كل مسجد تجمع فيه الصلاة بالبصرة ركعتين، فقال الحسن : تصلي في مسجد قومها؛ فإنها لا تطيق ذلك، لو أدركها عمر بن الخطاب لأوجع رأسها.

7702- حدثنا زيد بن حباب ، حدثنا ابن لهيعة ، حدثني عبد الحميد بن المنذر الساعي ، عن أبيه ، عن جدته أم حميد ، قالت : قلت : يا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمنعنا أزواجنا أن نصلي معك ونحب الصلاة معك ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : صلاتكن في بيوتكن أفضل من صلاتكن في حجركن ، وصلاتكن في حجركن أفضل من صلاتكن في الجماعة.

7703- حدثنا حفص ، عن الأعمش ، عن إبراهيم ، قال : كان لإبراهيم ثلاث نسوة فلم يكن يدعهن يخرجن إلى جمعة ، ولا جماعة.

عمدة القاري (5/ 403):

وقالت العلماء: كان هذا في زمنه، وأما اليوم فلا تخرج الشابة ذات الهيئة، ولهذا قالت عائشة رضي الله تعالى عنها لو رأى رسول الله ما أحدث النساء بعده لمنعهن المساجد كما منعت نساء بني إسرائيل. قلت: هذا الكلام من عائشة بعذر من يسير جدا بعد النبي، وأما اليوم فنعوذ بالله من ذلك، فلا يرخص في خروجهن مطلقا للعيد وغيره، ولا سيما نساء مصر على ما لا يخفى.

المبسوط للسرخسي (16/ 70):

لايبعد أن يختلف الحكم باختلاف الأوقات، ألا ترى أن النساء كن يخرجن إلى الجماعات في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر رضي الله عنه، حین (لعل الصواب "حتی")  منعهن من ذلك عمر رضي الله عنه، وكان ما رواه (لعل الصواب "رآه") من ذلك صوابا.

تبيين الحقائق (5/ 125):

وقالوا: الأحكام قد تختلف باختلاف الزمان. ألا ترى أن النساء كن يخرجن إلى الجماعات في زمن النبي صلى الله عليه وسلم وفي زمن أبي بكر رضي الله عنه حتى منعهن عمر رضي الله عنه، واستقر الأمر عليه، وكان ذلك هو الصواب.

بدائع الصنائع (1/ 157):

ولا يباح للشواب منهن الخروج إلى الجماعات بدليل ما روي عن عمر رضي الله عنه أنه نهى الشواب عن الخروج، ولأن خروجهن إلى الجماعة سبب الفتنة، والفتنة حرام،  وما أدى إلى الحرام فهو حرام. وأما العجائز فهل يباح لهن الخروج إلى الجماعات؟ فنذكر الكلام فيه في موضع آخر.

المبسوط للسرخسي (2/ 74):

قال: "وليس على النساء خروج في العيدين وقد كان يرخص لهن في ذلك، فأما اليوم فإني أكره ذلك"، يعني للشواب منهن، فقد أمرن بالقرار في البيوت، ونهين عن الخروج لما فيه من الفتنة. فأما العجائز فيرخص لهن في الخروج إلى الجماعة لصلاة المغرب والعشاء والفجر والعيدين، ولا يرخص لهن في الخروج لصلاة الظهر والعصر والجمعة في قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى: يرخص للعجائز في حضور الصلوات كلها وفي الكسوف والاستسقاء؛ لأنه ليس في خروج العجائز فتنة، والناس قل ما يرغبون فيهن، وقد كن يخرجن إلى الجهاد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يداوين المرضى ويسقين الماء ويطبخن، وأبو حنيفة رضي الله عنه قال: في صلوات الليل تخرج العجوز مستترة، وظلمة الليل تحول بينها وبين نظر الرجال إليها، بخلاف صلوات النهار والجمعة تؤدى في المصر، فلكثرة الزحام ربما تصرع وتصدم، وفي ذلك فتنة؛ فإن العجوز إذا كان لا يشتهيها شاب يشتهيها شيخ مثلها، وربما يحمل فرط الشبق الشاب على أن يشتهيها ويقصد أن يصدمها.

فتح القدير (1/ 365):

لا يقال: هذا حينئذ نسخ بالتعليل؛ لأنا نقول المنع يثبت حينئذ بالعمومات المانعة من التفتين، أو هو من باب الإطلاق بشرط، فيزول بزواله، كانتهاء الحكم بانتهاء علته، وقد قالت عائشة رضي الله عنها في الصحيح: لو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى ما أحدث النساء بعده لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل، على أن فيه ما رواه ابن عبدالبر بسنده في التمهيد عن عائشة رضي الله عنها ترفعه "أيها الناس انهوا نساءكم عن لبس الزينة والتبختر في المساجد فإن بني إسرائيل لم يلعنوا حتى لبس نساؤهم الزينة وتبختروا في المساجد".

وبالنظر إلى التعليل المذكور منعت غير المزينة أيضا لغلبة الفساق، وليلًا، وإن كان النص یبیحه؛ لأن الفساق في زماننا أكثر انتشارهم وتعرضهم بالليل. وعلی هذا ینبغي علی قول أبي حنيفة تفريع منع العجائز ليلًا أيضا، بخلاف الصبح؛ فإن الغالب نومهم في وقته، بل عمم المتأخرون المنع للعجائز والشواب في الصلوات كلها لغلبة الفساد في سائر الأوقات.

أصول الإفتاء وآدابه (278-277):

عمل الفقهاء علی أصل سد الذرائع في کثیر من الأحکام.  ومن أمثلته أن رسول الله صلی الله علیه وسلم أجاز للنساء أن یشهدن الصلوات في المساجد، بل روي عنه صلی الله علیه وسلم أنه قال: " لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ"، ولکن لما رأی سیدنا عمر رضی الله تعالی عنه في زمانه أن هذه الإباحة تجر إلی فتن، منعهن المساجد، وقالت عائشة رضي الله عنها: " لَوْ أَدْرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عليهِ وَسَلَّم مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِى إِسْرَائِيلَ.." وذلك لما صرح به النبي صلی الله علیه وسلم: " لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلاَتٌ "، وفي حدیث ابن عمر رضی الله تعالی عنهما "لاَ تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ"، وفي حدیث آخر:  "صَلاَةُ الْمَرْأَةِ فِى بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِهَا فِى حُجْرَتِهَا وَصَلاَتُهَا فِى مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِهَا فِى بَيْتِهَا". وحضورهن المساجد في عهد النبي الکریم صلی الله علیه وسلم إنما کان علی سبیل الإباحة، لا الأفضلیة؛ وذلك إذا لم تکن فیه فتنة؛ ولذلك قیده النبي الکریم صلی الله علیه وسلم بأن یخرجن تفِلات. فلما خیف علیهن من الفتن، أعاد سیدنا عمر رضي الله تعالی عنه الأمر إلی ما هو أفضل بلا نزاع، وذلك سدا لذریعة الفساد.                         

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  23/جمادی الآخرة/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب