| 86590 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
والد کی موجودگی میں والدہ، بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں نے ایک نابالغ بچی کا نکاح کرایا ہے، جبکہ والد کا کہنا ہے کہ میں نے اس وقت بھی نکاح کی اجازت نہیں دی تھی اور اب بھی نہیں دیتا۔ یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد کی موجودگی میں نابالغ بچی کے نکاح کا اختیار کسی اور کو نہیں، اگر کوئی اور اس کا نکاح کرائے گا تو وہ والد کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ صورتِ مسئولہ میں جب بچی کا نکاح والدہ، بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں نے کرایا اور والد نے صراحتاً یا دلالتاً کسی طرح اس کی اجازت نہیں دی تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (4/ 405):
قال: ولا يجوز لغير الولي تزويج الصغير والصغيرة؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: "لا نكاح إلا بولي".
فتاوى قاضي خان (1/ 174):
(فصل في الأولياء) الأصل في اعتبار الولي قوله صلى الله عليه وسلم "لا نكاح إلا بولي"، وهو شرط جواز النكاح في الصغار والمماليك والمجانين، والولاية تثبت بأسباب: أقواها ملك اليمين ….. ثم بعد ملك اليمين العصوبة……. وأقرب العصبات إلى الصغير والصغيرة الأب ثم الجد أبو الأب وإن علا…… الخ
الدر المختار (3/ 81):
( وللولي الأبعد التزويج بغيبة الأقرب ) فلو زوج الأبعد حال قيام الأقرب توقف على إجازته.
رد المحتار (3/ 81):
قوله ( حال قيام الأقرب ) أي حضوره وهو من أهل الولاية أما لو كان صغيرا أو مجنونا جاز نكاح الأبعد، ذخيرة.
قوله ( توقف على إجازته ) تقدم أن البالغة لو زوجت نفسها غير كفء فللولي الاعتراض ما لم يرض صريحا أو دلالة كقبض المهر ونحوه، فلم يجعلوا سكوته إجازة، والظاهر أن سكوته هننا
كذلك، فلا يكون سكوته إجازة لنكاح الأبعد وإن كان حاضرا في مجلس العقد ما لم يرض صريحا أو دلالة، تأمل.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
17/رجب المرجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


