03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
{وَقَرْنَ فِي بُيُوْتِكُنَّ} کی تفسیر
86701قرآن کریم کی تفسیر اور قرآن سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

عورت کے گھر میں رہنے کے حکم کا کیا مطلب ہے؟ آیت {وَقَرْنَ فِي بُيُوْتِكُنَّ} کی تفسیر بیان فرما کر وضاحت کریں کہ عورت کی اصل ذمہ داریاں کیا ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ] ترجمہ اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو،اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو،جیسا کہ پہلی جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا۔(آسان ترجمہ قرآن)

اس آیت میں عورتوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ عورت کی  اصل ذمہ داری  گھر اور خاندان کی تعمیر ہے اور اس کا اصل مقام گھر ہے،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت کے لئے گھر سے بالکل نکلنا جائز نہیں، بلکہ دوسری آیات، احادیث مبارکہ اور اجماع امت سے یہ بات ثابت ہے کہ ضرورت کے وقت عورت کا گھر سے نکلنا جائز ہے،جس میں حج وعمرہ، ضرورت طبعیہ ، والدین اور اپنے محارم کی زیارت و عیادت  وغیرہ کے لئے نکلنا شامل ہیں۔اسی طرح اگر کسی کے نفقہ اور ضروریات زندگی کا کوئی اور سامان نہ ہو، تو پردہ کے ساتھ محنت مزدوری کے لئے نکلنا بھی جائز ہے، البتہ مواقع ضرورت میں باہر نکلنے کے لئے شرط یہ ہے کہ اظہار زینت کے ساتھ نہ نکلیں، بلکہ برقعہ ،یا جلباب (بڑی چادر) کے ساتھ نکلیں،پردہ وغیرہ کا اہتمام  بھر پور اہتمام کریں اور پہلی جاہلیت کی عورتوں کی طرح بے پردہ ،بےحیاء بن کر نہ نکلیں ،کہ پردہ ہی نہ کریں یا ایسی چھوٹی چادر سے پردہ کریں کہ جس کے پہننے  کے باوجود زینت کے مواضع نظر آتے ہوں۔(

حوالہ جات

القرآن الکریم:[الأحزاب: 33]:

ﵟوَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ ﵞ،

زاد المسير في علم التفسير (3/ 461):

قال المفسرون: ومعنى الآية: الأمر لهن بالتوقُّر والسكون في بُيوتهنَّ وأن لا يَخْرُجْنَ.

قوله تعالى: وَلا تَبَرَّجْنَ قال أبو عبيدة: التبرُّج: أن يُبْرِزن محاسنهن. وقال الزجاج: التبرُّج: إِظهار الزِّينة وما يُستدعى به شهوةُ الرجل.

صحيح مسلم (7/ 6):

عن عائشة قالت: خرجت سودة بعدما ضرب عليها الحجاب لتقضي حاجتها، وكانت امرأة جسيمة تفرع النساء جسما، لا تخفى على من يعرفها، فرآها عمر بن الخطاب فقال: يا سودة، والله ما تخفين علينا، فانظري كيف تخرجين! قالت: فانكفأت راجعة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي، وإنه ليتعشى وفي يده عرق، فدخلت فقالت: يا رسول الله، إني خرجت فقال لي عمر كذا وكذا! قالت: فأوحي إليه، ثم رفع عنه وإن العرق في يده ما وضعه، فقال: إنه قد أذن لكن أن تخرجن لحاجتكن.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

28/ رجب/1446ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب