| 86954 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
سوال: میں ............ کا نکاح مسما ۃ ............. سے عرصہ 29سال قبل ہوا، جس سے پانچ بچے ہیں اور سب عاقل بالغ ہیں ۔ایک بیٹے مسمی عبدالرحمٰن کی تو شادی بھی ہو گئی ہے، جس سے ایک بیٹا ہے۔
کچھ عرصہ سے میری اہلیہ بیمار ہے، مختلف عاملوں سے ان کا علاج کرانے کی کوشش بھی کی گئی ۔ڈاکٹر حضرات سے بھی رجوع کیا، مگر وہ علاج پر آمادہ نہیں ہوتی ۔
میری بیوی اور بچے اٹاوہ سوسائٹی نزد احسن آباد اسکیم 33کراچی میں 200گز کے گھرمیں رہائش پذیر ہیں ۔گھر کا کرایہ ،یو ٹیلٹی بلز سمیت اخراجات کا بڑا حصہ میں دیتا ہوں جو کہ تقریباً700,00 بنتا ہے ۔کچھ اخراجات میرے دو بیٹے عبداللہ اور عمر دیتے ہیں۔
بیماری کی وجہ سے میرے ساتھ ناچاقی تو کافی عرصہ سے ہے ،مگر اس میں بیوی کی طرف سےکافی شدت آگئی ہے اور شوہر ہونے کی حیثیت سے میرے حقوق کا بالکل خیال نہیں کرتی ۔
میری دو بیٹیاں جوان اور بالغ ہیں ۔میں ان کے رشتوں کے بارے میں حد درجہ فکر مند ہوں ۔مگر میری بیوی مجھ سے خلع کا مطالبہ کرنے لگی ہے ۔میرے نزدیک میری بیوی نفسیاتی مریض ہے ۔میں بیوی کے خلع کے مطالبہ کو بالکل غلط سمجھتا ہوں ۔ اس لیے کہ اس مطالبہ کی کوئی معقول بنیاد نہیں، بلکہ نفسیاتی مسائل ہیں جن کی وجہ سے وہ اس طرح کی حرکتیں کرتی ہے۔میں نے سسرال والوں کو بھی بتایا ،وہ بھی اس پر بہت زیادہ ناراضگی کا اظہار کرنے لگے۔اور میں بھی خلع دینے پر بالکل راضی نہیں ۔
میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ درج بالا باتیں بالکل درست ہیں، ان میں کوئی خلاف واقع بات میں نے نہیں لکھی۔
اس صورت حال میں سوال یہ ہے کہ:
(1کیا میری بیوی کا خلع کا مطالبہ کرنا ٹھیک ہے؟
(2 میں اگر راضی نہ ہوں تو کیا پھر بھی شرعاً خلع ہو جائے گا؟
(3 میری عدم رضامندی کے باوجود یک طرفہ خلع سے میری بیوی میرے نکاح سےخارج ہو جائے گی؟
(4 میرے راضی نہ ہو نے کے باوجود وہ اس یک طرفہ خلع سے آگے نکاح کر سکتی ہے؟
(5کیا وہ نکاح شرعاً ٹھیک ہو گا ؟اس کے نتیجے میں ان دونوں کا تعلق جائز ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1,2 بیوی کے لیے بغیر کسی سبب کےخلع کا مطالبہ کرنا شریعت کی نظر میں انتہائی قبیح ہے۔ البتہ اگر بیوی خلع کا مطالبہ کر دے تو بھی خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے جس میں جانبین کی رضامندی ضروری ہے، اگر کوئی ایک فریق راضی نہ ہو تو شرعًا خلع معتبر نہیں ہوتا۔
3) خلع کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے،شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یک طرفہ فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابق شوہر کے نکاح میں رہتی ہے۔
نیزعورت کا بغیر کسی معقول وجہ کے عدالت سے رجوع کرنا اورطلاق کا مطالبہ کرنے پربیوی گناہ گار ہوگی،کیونکہ احادیث مبارکہ میں بلاضرورت اس طرح طلاق کے مطالبے پرسخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ ایسی عورتوں کو منافق قرار دیا گیا ہے اور ایک روایت میں آتا ہے کہ جس عورت نے بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگی اس پرجنت کی خوشبو بھی حرام ہوگی۔
5(4, عدالت سے یک طرفہ خلع لینے کے بعد آپ کی بیوی کا دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں اورنہ ہی ان دونوں کا تعلق ٹھیک ہوگا۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی : فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ.[البقرة آیت: 229]
أخرج الامام الترمذي رحمہ اللہ"عن ثوبان، أن رسول ﷲ صلى ﷲ عليه وسلم قال: أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة. هذا حديث حسن.( سنن الترمذي: 3/ 485)
وفي زادالمعاد: فی تسمیتہ صلی اللہ علیہ وسلم الخلع فدیۃ دلیل علی أن فیہ معنی المعاوضۃ ولہذااعتبرفیہ رضاالزوجین .
(زادالمعاد: 2/238 :)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:وأما ركنه فھو کما في البدائع: إذا کان بعوض الإیجاب والقبول، لأنه عقد علی الطلاق بعوض، فلاتقع الفرقة و لایستحق العوض بدون القبول.(رد المحتار:3/441)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:إذا وجدت المرءۃ زوجھا مجبوبا أو مقطوع الذکر... إلی قوله: فرق الحاکم بطلبھا لو حرۃ بالغة غیر رتقاء وقرناء وغیر عالمة بحاله قبل النکاح وغیر راضیة به بعدہ. (الدر المختار:3/494)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير؛ لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. (رد المحتار:3/ 132)
الحيلة الناجزة:طريق تطليق زوجة المفقود أو الغائب الذي تعذر الإرسال أو أرسل إليه، فتعاند، إن كان لعدم النفقة فإن الزوجة تثبت لشاهدين أن فلانا زوجها وغائب عنها، ولم يترك لها نفقة، ولا وكيلا بها، ولا أسقطتهاعنه، وتحلف على ذلك، فيقول الحاكم فسخت نكاحه أو طلقت منه. (الحيلة الناجزة:181)
وفی الموسوعة الفقہیۃ:الطلاق:نوع من انواع الفرقة وھوملک للزوج وحدہ ،ذالک ان الرجل یملک مفارقة زوجتہ اذاوجد مایدعوہ الی ذالک بعبارتہ وارادتہ المنفردة ،کماتملک الزوجة طلب انھاء علاقتھاالزوجیة اذاوجد مایبررذالک،کاعسارالزوج بالنفقة،وغیبة الزوج،وماالی ذالک من اسباب اختلف الفقہاءفیھاتوسعةوتضییقا۔ولکن ذالک لایکون بعبارتھاوانما بقضاء القاضی الاان یفوضھا الزوج بالطلاق فانھافی ھذہ الحالۃ تملکہ بقولھاایضا.( الموسوعة الکویتیة: 29/ 54)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید، کراچی
/30 شعبان المعظم ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


