03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی رقم ملاکرخریدے گئے گھر میں ہر بھائی لگائی گئی رقم کے تناسب سے شریک ہوگا
87207شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

ہم چھ بھائی کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ مالک مکان نے گھر خالی کرنے کا کہا اور خالی نہ کرنے کی صورت میں خریدنے پر مجبور کیا، چنانچہ ہم نے بمشکل اپنی استطاعت کے مطابق رقم لگا کر 12 لاکھ میں یہ گھر خریدا۔ بعد میں اسے 14 لاکھ میں فروخت کرکے 30 لاکھ کی مالیت سے دوسرا گھر خرید لیا، جس میں 18 لاکھ پلاٹ پر اور 12 لاکھ تعمیر پر لاگت آئی۔

پہلے گھر کی خریداری میں بھائیوں کی لگائی گئی رقم درج ذیل ہے:

 اکبر خان نے 6,05,000 روپے، عبداللہ نے 3,00,000 روپے، ارشد خان نے 50,000 روپے لگائے، جبکہ صدبر خان، امجد خان اور نوید خان نے کوئی نقد سرمایہ کاری نہیں کی۔

اسی طرح گھریلو خواتین نے زیورات کی مد میں سرمایہ لگایا، جس کی تفصیل یہ ہے: بیگم اکبر خان نے 73,500 روپے، بیگم صدبر خان نے 73,500 روپے، بیگم عبداللہ نے 73,500 روپے، اور بیگم ارشد خان نے 24,500 روپے دیے۔

دوسرے گھر کی خریداری میں بھائیوں نے جو رقم لگائی اس کی تفصیل یہ  ہے:

 اکبر خان نے 9,00,000 روپے، صدبر خان نے 1,00,000 روپے، ارشد خان نے 3,00,000 روپے، اور عبداللہ نے 3,00,000 روپے دیے، جبکہ امجد خان اور نوید خان نے کوئی رقم شامل نہیں کی۔

پہلے گھر کی فروخت سے حاصل شدہ کل رقم 14 لاکھ تھی، جس میں 2 لاکھ کا منافع شامل تھا۔ اس رقم میں اکبر خان، صدبر خان، عبداللہ، ارشد خان اور اسی طرح بیگم اکبر خان، بیگم صدبر خان، بیگم عبداللہ اور بیگم ارشد خان نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا تھا۔

وضاحت:یہ گھر موروثی نہیں تھا، نہ ہی کسی مشترکہ خاندانی فنڈ سے بنایا گیا تھا، اور نہ ہی بھائیوں کے کسی اجتماعی فنڈ یا کچن کے اخراجات سے بچت کرکے خریدا گیا تھا۔ بلکہ مذکورہ شرکاء نے اپنی ذاتی رقم ملا کر یہ گھر تیار کیا تھا۔خواتین کے زیورات ان کی رضامندی سے شامل کیے گئے تھے، اور انہیں منافع دینے یا گھر کی فروخت میں اس کی مارکیٹ ویلیو شامل کرنے کا معاملہ ہم بھائی خود اپنی بیویوں کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔مزید برآں، کچن کے اخراجات کا کوئی خاص منظم نظام نہیں تھا، کوئی کم دیتا تھا تو کوئی زیادہ۔ ہر بھائی اپنی ذاتی کمائی میں خودمختار تھا۔ ذاتی آمدنی کے لیے ہر بھائی گاڑی، رکشہ یا موٹر سائیکل وغیرہ لینے میں خودمختار تھا۔ اسی طرح، ہر بھائی اپنی اور اپنے بچوں کی طبی ضروریات اور اسکول فیس کا خود ذمہ دار تھا۔

سائل کی مزید وضاحت: مذکورہ مکان خریدتے وقت بھائیوں کے درمیان حقِ ملکیت کے بارے میں کوئی زبانی یا تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ بڑے بھائی ہونے کے ناطے، میری نیت صرف بھائیوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارہ برقرار رکھنے کے لیے انہیں رہائش فراہم کرنا تھی، نہ کہ انہیں حقِ ملکیت دینا۔

اس تفصیل کے بعد سوال یہ ہے کہ:

ہرشریک نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اس مکان کی خریداری میں جو رقم ادا کی تھی، کیا اسی تناسب سے وہ اس کی ملکیت اور مارکیٹ ویلیو کے حقدار اور حصے دار ہوں گے، یا تمام شرکاء برابر کے حصہ دار تصور کیے جائیں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ دونوں گھر میراث میں شامل نہیں کیونکہ یہ بھائیوں اور گھریلو خواتین نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق رقم لگا کر خود خریدے ہیں۔ لہٰذا، پہلے اور دوسرے گھر میں جن افراد نے جتنی رقم لگائی ہے، وہ اسی تناسب سے اس گھر کی ملکیت میں شریک ہیں اور فروخت ہونے کی صورت میں ہر شریک اپنے حصے کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے  قیمتِ فروخت کا حقدار ہوگا۔

چونکہ مذکورہ گھر میراث میں شامل نہیں اور خریداری کے وقت حقِ ملکیت کے حوالے سے کوئی معاہدہ بھی نہیں ہوا تھا، نیز اکبر خان کی نیت بھی انہیں ملکیت دینے کی نہیں تھی، اسی لیے امجد خان اور نوید خان، جنہوں نے دونوں گھروں میں کوئی رقم نہیں لگائی، ان کا اس گھر کی ملکیت اور فروخت کی قیمت میں کوئی حق نہیں بنتا۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام :26/3،المادۃ:1073

"تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما."

قا ل  العلامۃ زین الدین رحمہ اللہ:لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."( البحر الرائق :(44/5

قال ابن عابدین رحمہ اللہ:(أقول) وفي الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه." (العقود الدرية: (17,18/2

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

20رمضان المبارک1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب