| 87198 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہماری ایک بہن ہیں، جن کی شادی 25 سال پہلے ہو چکی ہے اور وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ہم بھائیوں نے مل کر اپنی ذاتی رقم سے ایک گھر خریدا، اس میں نہ میراث کی کوئی رقم شامل تھی، نہ مشترکہ خاندانی فنڈ،بلکہ یہ مکمل طور پر ہماری اپنی ذاتی کمائی سے خریدا گیا تھا، اور اس وقت ہم سب بھائی مالی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہو چکے تھے۔ چونکہ انہوں نے گھر کی خریداری میں کوئی رقم شامل نہیں کی، تو کیا اس گھر میں ہماری بہن کا بھی کوئی حصہ بنتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بھائیوں کی حیات میں مذکورہ مکان میں شرعاً آپ کی بہن کا کوئی حق نہیں بنتا۔
حوالہ جات
قا ل العلامۃ زین الدین رحمہ اللہ:لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
( البحر الرائق :(44/5
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
19رمضان المبارک1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


