03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناجائز امور میں والدین کی اطاعت ؟
87196جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

گزشتہ کئی سالوں سے ہم چار شادی شدہ بھائی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں مقیم ہیں۔ یہ گھر ہم بھائیوں نے اپنی ذاتی کمائی سے خریدا ہے، اس میں نہ تو کوئی خاندانی مشترکہ فنڈ شامل ہے اور نہ ہی میراث کی کوئی رقم۔ ہماری والدہ محترمہ اس گھر کی مالک نہیں ہیں، مگر اس کے باوجود وہ اسے فروخت کرنے پر راضی نہیں۔ان کی ضد کی وجہ سے ہم چاروں بھائی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث شرعی پردے کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے، کیونکہ ہمارے بچے اور بچیاں اب بالغ ہو چکے ہیں۔ کچھ بھائیوں کے پاس ذاتی گھر موجود ہیں جہاں والدہ بآسانی رہ سکتی ہیں، لیکن وہ وہاں جانے کے لیے تیار نہیں۔

ہم سب بھائی والدہ کی خدمت، دیکھ بھال اور ہر طرح کے اخراجات اٹھانے کے لیے پوری طرح آمادہ ہیں۔ ان کے آرام، علاج معالجے اور ضروریات کا مکمل خیال رکھنے کے لیے بھی تیار ہیں، مگر شرعی احکامات کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتے۔

ایسی صورت میں کیا والدہ کی مرضی کے خلاف گھر فروخت کرنا شرعاً جائز ہوگا؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہاء کی آراء کی روشنی میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدین کا احترام اور ان کی فرمانبرداری اولاد پر لازم ہے، کیونکہ یہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کا حصہ ہے۔ تاہم، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی شخص والدین یا کسی بھی انسان کی اطاعت میں شرعی احکامات کو پس پشت ڈال دے۔

صورتِ مسئولہ میں سب سے پہلے والدہ محترمہ کو شرعی حکم سے آگاہ کریں کہ  بھابی کا دیور سے اور چچازاد بھائیوں سے چچازاد بہنوں کا پردہ کرنا لازم ہے، خاص طور پر جب ان کے لیے الگ گھر کا انتظام بآسانی ممکن ہوتوایسی صورت میں پردہ کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہوجاتا ہے، اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ مزید برآں، غیر محرم مرد و زن کے اختلاط کے گناہ اور اس کے نقصانات کے بارے میں بھی والدہ کو سمجھائیں۔

اگر سمجھانے کے باوجود والدہ اجازت نہیں دےرہی تو شرعاً آپ پر ان کی اس بات کو ماننا لازم نہیں، اور اس معاملے میں ان کی بات نہ ماننے پر آپ پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، کیونکہ شریعت نے گناہ کے کام میں مخلوق کی اطاعت سے منع فرمایا ہے۔ یہاں بھی اگر والدہ کی بات مانی جائے تو ایک اہم شرعی حکم، یعنی پردے کو ترک کرنا لازم آتا ہے، نیز غیر محرم مرد و زن کا اختلاط، جو کہ شرعاً ممنوع ہے، وہ بھی پیش آئے گا۔

لہٰذا، جب آپ لوگ  ہر طرح سے والدہ کی خدمت کے لیے تیار ہیں، انہیں بے گھر کرنے کا کوئی تصور بھی نہیں، اور وہ محض اپنے وہم یا جذبات کی بنیاد پر گھر فروخت کرنے کی اجازت نہیں دے رہیں، جبکہ اس صورتحال میں بے پردگی اور دیگر دینی احکامات کی خلاف ورزی یقینی ہے، تو ایسی صورت میں گھر فروخت کرنے کے لیے والدہ کی اجازت ضروری نہیں۔ اور گھر فروخت کرنے میں  آپ کو کوئی گناہ  نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالٰی: ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى﴾ (الأحزاب:(33

ترجمہ:اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو  اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا۔(آسان ترجمہ قرآن:(1294/3

 عن عقبة بن عامر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إياكم والدخول على النساء» فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: «الحمو الموت»" (صحيح البخاري :7/ 37(

 قال الامام النووی رحمہ اللہ: (الحمو الموت) قال الليث بن سعد: الحمو أخو الزوج وماأشبهه من أقارب الزوج بن العم ونحوه، اتفق أهل اللغة على أن الاحماء أقارب زوج المرأة كأبيه وعمه وأخيه وبن أخيه وبن عمه ونحوهم والأختان أقارب زوجة الرجل والأصهار يقع على النوعين، وأما قوله صلى الله عليه وسلم الحمو الموت فمعناه أن الخوف منه أكثر من غيره والشر يتوقع منه والفتنة أكثر لتمكنه من الوصول إلى المرأة والخلوة من غير أن ينكر عليه بخلاف الأجنبى والمراد بالحموهنا أقارب الزوج غير آبائه وأبنائه فأما الآباء والأبناء فمحارم لزوجته تجوزلهم الخلوة بها ولايوصفون بالموت وانما المراد الأخ وبن الأخ والعم وابنه ونحوهم ممن ليس بمحرم وعادة الناس المساهلة فيه ويخلو بامرأة أخيه فهذا هو الموت وهو أولى بالمنع من الأجنبي لماذكرناه فهذا الذي ذكرته هو صواب معنى الحديث۔" (شرح النووي على مسلم:14/ 153) 

أخرج الإمام الترمذي رحمہ اللہ تعالٰی عن ابن عمررضي اللہ  تعالٰی عنہ ، قال: قال رسول  اللہ صلى اللہ عليه وسلم: السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره، ما لم يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية فلا سمع عليه ولا طاعة.وفي الباب عن علي، وعمران بن حصين، والحكم بن عمرو الغفاري.وهذا حديث حسن صحيح.(سنن ترمذي:325/3،رقم الحدیث:(1707

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

19رمضان المبارک1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب