| 87227 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
آج سے اٹھارہ سال پہلے والد صاحب نے دو پلاٹ لئے تھے، ایک میرے نام سے اور دوسرا اپنے نام سے،پلاٹوں کو قسطوں پر لیا تھا تو والد صاحب نے ہی قسطیں اداء کیں تھی،تمام رسیدو ں پر والد صاحب کے دستخط ہیں، لیکن جس طرح مکان کی فائل بھائی کے پاس تھی اس طرح ان دو پلاٹوں کی فائلیں بھی بھائی نے اپنے پاس رکھی ہیں۔ بھائی کے گھروں والوں کا یہ دعوی ہے کہ پلاٹوں کی رقم بھائی نے اداء کی ہے جبکہ دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ بھائی نے پلاٹوں کی قیمت والد صاحب کو اداء کی ہے، ان دو الگ الگ باتوں پر نہ کوئی گواہ نہ ہی کاغذی ثبوت ہے۔ گھر کے بڑوں نے اس کا حل پیش کیا کہ والد صاحب کےنا م پلاٹ تمام بہنوں میں تقسیم کیا جائےجبکہ میرے نام جو پلاٹ ہے وہ مجھے دے دیا جائے ، اس بات پر بھائی کے گھر والے پہلے راضی ہوگئے لیکن بعد میں بڑوں کے فیصلے سے انکار کر کے دعوی کیا کہ نہیں یہ دونوں پلاٹ تمہارے بھائی کے ہیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ دونوں پلاٹ والد کے ترکہ میں شامل کرکے تمام ورثاء میں تقسیم ہونگے یا اس پر صرف بھائی کا حق ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مذکورہ میں اگر بھائی پلاٹوں کی ملکیت کا دعوی کر رہا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس دعوی پر کوئی شرعی ثبوت
پیش کریں ،اگر وہ شرعی ثبوت نہیں پیش کرسکتے ہیں تو محض دعوی سے ملکیت ثابت نہیں ہوگی ۔ لہذا مذکورہ دو نوں پلاٹ کو والد کا ترکہ شمار کر کے، ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم کیا جائے گا۔
حوالہ جات
معین القضاۃ والمفتین:
۴۶- المادة :متى صحت الدعوى وجب الجواب على المدعى عليه فحينئذ لا يخلو حاله إما أن يقر أو ينكر أو يسكت أو يقول لا أقر ولا أنكر، ففي الإقرار انقطع النزاع وأمر القاضي بتسليم ما أقر به، وفي الإنكار سأل القاضي عن المدعي اله بيئة على دعواه أم لا؟ فإن أحضر بيئة جامعة الشروط حكم القاضي له على المدعى عليه بالحق، وإن عجز المدعي عن الإثبات قال له القاضي: لك يمينه. فإن طلب تحليفه على نفي دعواه فإن حلف على سبيله، وإن نكل حكم عليه بمقتضى نكوله، وإن سكت مع عدم آفة تمنعه من النطق أو قال: لا أقر ولا أنكر يحبس المدعى عليه حتى يقر أو ينكر (1) هذا إذا كانت الدعوى صحيحة فلو كانت فاسدة لم يترتب عليها تلك الاحكام. (من المحل المذبور).
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
15/رمضان/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


