03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ریال قرض دینا(قرض ریال کی ادائیگی دوسری کرنسی کی صورت میں کرنا)
87091خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

زید نے عمرو سے سعودیہ  میں ریال لیے اور کہا کہ پاکستان میں آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیں گے، لیکن اس وقت زید کچھ مسائل کی وجہ سے رقم واپس نہ کرسکا اور عمرونے تقاضا بھی نہیں کیا ۔اب زید وہ رقم واپس کرناچاہتا ہے لیکن عمر و کا مطالبہ ہے کہ  مجھے ریال ہی  واپس ملیں، جبکہ ریال اس وقت 34 کاتھا اب 74 کا ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اب زید کس حساب سے واپسی ادائیگی کرے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مذکورہ میں اگر ریال لیتےوقت زید نے   پاکستانی روپے میں قیمت معلوم کرکے باقاعدہ یہ صراحت نہیں کی تھی کہ پاکستان میں آپ کو اتنے پاکستانی روپے دوں گا تو اب عمرو  کا حق ریال میں ہی ہے ۔لہذا  زید پر لازم ہے کہ وہ عمرو کو ریال دیں یا اگر دائن(عمرو) راضی ہوتو روپے میں ان کی موجودہ قیمت بھی دے سکتا ہے۔ ہاں اگر ریال لیتے وقت زید نے   پاکستانی روپے میں قیمت معلوم کرکے باقاعدہ یہ صراحت  کی تھی کہ پاکستان میں آپ کو اتنے پاکستانی روپے دوں گااور ادائیگی کی میعاد بھی واضح طور پر طے کردی تھی تو ایسے میں زید پر اس وقت جتنے ریال کے پاکستانی روپے بنے تھے وہی  اداء کرنا لازم ہوں گے ، ریال کی ادئیگی اس پر لازم نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

بحوث في قضايا فقهية معاصرة(ج:1 ص 183،184):

لأن القروض في الشريعة الإسلامية يجب أن تقضى بأمثالها ، وهذا أمر لا يختلف فيه اثنان حتَّى القائلون بجواز ربط القروض بالأسعار، فبقي الآن تعيين معنى المثلية؛ فالسؤال الأساسي هنا : هل يجب أن تتحقق هذه المثلية في القدر (أي: الكيل، والوزن، والعدد أو في القيمة والمالية؟ والذي يتحقق من النظر في دلائل القرآن والسنة ومشاهدة معاملات الناس، أن المثلية المطلوبة في القرض هي المثلية في المقدار والكمية، دون المثلية في القيمة والمالية. ويدل على ذلك دلائل:

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

11/رمضان1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب