03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
باہمی رضامندی سے فروخت کیے گئے ترکے کی رقم میں بہن کا حصہ
85877میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم!ایک مسئلے کے بارے میں پوچھنا ہے کہ والد صاحب کی وفات کے بعد ہم نے وہ گھر بیچ کر دوسری جگہ نئے گھر کے لیے پلاٹ خریدا جو صرف بھائیوں کے نام تھا ۔ تعمیر کے لیے چونکہ رقم کم تھی اس لیے بہن کو اس وقت کچھ نہیں دیا ۔پھر آٹھ سال پیسے جمع کر کےاس کی تعمیرکی،اب بھی کچھ کام باقی ہے ۔ تاہم زیادہ تاخیر سے بچنے کے لیے بہن کو حصہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔لیکن  اب بہن کہہ رہی ہے کہ آپ کے مکان کی قیمت زیادہ ہے اور میری رقم کم ہے ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں کس حساب سے رقم ادا کی جائے گی؟پرانے مکان کی پرانی قیمت یا  پرانے مکان کی موجودہ قیمت یا پھر نئے مکان کی موجودہ قیمت ؟

     تنقیح:سائل سے فون پر معلوم ہوا کہ میراث والا گھر بہن کی رضامندی سے فروخت کیا گیا تھا ،اس کے دستخط بھی اس میں شامل تھےاور نئے گھر کی تعمیر میں دس سے پندرہ فیصد  تعمیر پرانے گھر کے پیسوں سے ہوئی تھی اور باقی ہم بھائیوں کا پیسہ تھا ،تعمیر میں بہن کے پیسے شامل نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

      صورت  مسئولہ میں چونکہ والد مرحوم کے ترکے میں شامل  پرانا گھر تمام ورثہ کی باہمی رضامندی سے فروخت کرکے اس کی رقم سے نئے گھر کا پلاٹ خریدا گیا،نیز نئے گھر کی ابتدائی تعمیر  میں بھی پرانے گھر کے پیسے شامل تھے،لہذا  اس صورت میں بہن نئے گھر کے پلاٹ اور ابتدائی تعمیر جو مشترکہ پیسوں سے ہوئی تھی ،اس میں اپنے حصے کے بقدر شریک ہے ۔مشترکہ پلاٹ سے نکلنے کے لیے باہمی رضامندی سےبہن کے حصے کی جو قیمت طے ہوجائے وہ   اداکرنا ضروری ہوگا۔

       البتہ اگر بہن کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ پرانا گھر فروخت ہونے کے بعد آپ کو اپنے حصے کی رقم ملے گی ،لیکن پھروہ  رقم نہیں دی  گئی اور اجازت کے بغیر وہ رقم اپنے لیے پلاٹ خریدنے میں خرچ کردی، تو یہ غصب  کے زمرے میں آئے گاجو کہ سخت گناہ  ہے۔ اس پر آپ کو توبہ و استغفار  کرنا چاہیے،نیز بہن سے معافی بھی  مانگنی چاہیے۔البتہ  اس صورت میں بہن کی طرف سےمطالبہ کرنے پراس کو رقم  کی وہی مقدار ملے گی جوپرانے گھر کی رقم میں اس کا حصہ بنتا تھا، نئے پلاٹ میں بہن  کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔

حوالہ جات

       وقال العلامۃ السرخسي رحمہ اللہ تعالی: ثم  الشركة نوعان: شركة الملك وشركة العقد. فشركة الملك أن يشترك رجلان في ملك مال، وذلك نوعان: ثابت بغير فعلهما كالميراث، وثابت بفعلهما، وذلك بقبول الشراء أو الصدقة أو الوصية. والحكم واحد، وهو أن ما يتولد من الزيادة يكون مشتركا بينهما بقدر الملك، وكل واحد منهما بمنزلة الأجنبي في التصرف في نصيب صاحبه.( المبسوط:11/ 151)

         وقال العلامۃ الزیلعی رحمہ اللہ تعالی: أمره بشراء ثوب هروي أو فرس أو بغل صح سمى ثمنا أو لا ... وبشراء عبد أو دار جاز إن سمى ثمنا وإلا لا .( تبيين الحقائق:4/ 259)                

      وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:إذا اشترى أحد الشريكين جميع الدار المشتركة من شريكه قلت: علم من هذا ما يقع كثيرا، وهو أن أحد الشريكين في دار ونحوها ‌يشتري ‌من ‌شريكه جميع الدار بثمن معلوم فإنه يصح على الأصح بحصة شريكه من الثمن.(رد المحتار ط :5/ 57)

        وقال العلامۃ علی حیدر أفندی رحمہ اللہ تعالی:المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده،فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان...أما إذا تلف بالتعدي أو التقصير فيكون ضامنا. (شرح مجلة الأحكام:3/ 561)

        وقال أصحاب الفتاوى الهندية:وأما حكمها ‌فوجوب ‌الحفظ على المودع ،وصيرورة المال أمانة في يده،ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق.(الفتاوى الهندية:4/ 338)

         وقال أصحاب الفتاوى الهندية:وإن غصب ما لا مثل له ‌فعليه ‌قيمة ‌يوم الغصب بالإجماع. ( الفتاوى الهندية:5/ 119)

جنید صلاح الدین        

دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

/13جمادی الثانیہ6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب