03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
روزے کی حالت میں انجکشن یاڈرپ لگوانے کا حکم
87201روزے کا بیانروزے کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

انجکشن اور ڈرپ لگانے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں، یہاں اس بارے میں علماء کی مختلف آراء ہیں۔  شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

روزے کی حالت میں ڈرپ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ بلا ضرورت روزے کا احساس نہ ہونے کے لیے طاقت حاصل کرنے کی غرض سے ڈرپ لگانا مکروہ ہے ،انجکشن کا بھی یہی حکم ہے۔خواہ رگ میں لگایا جائے یا گوشت میں ،اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ؛ کیونکہ انجکشن یا ڈرپ کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ  منافذ اصلیہ سے نہیں بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن میں جاتی ہے جبکہ روزہ فاسد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ منافذ اصلیہ مثلاًمنہ یا ناک وغیرہ کے ذریعہ کوئی چیز معدے یا دماغ کے اندر پہنچے اور انجکشن یاڈرپ میں ایسا نہیں ہوتا ۔

حوالہ جات

 قال ابن عابدین رحمہ اللہ:والمفطر إنما ھو الداخل من المنافذ؛ للاتفاق علی أن من اغتسل فی ماء ،فوجد بردہ فی باطنہ،أنہ لا یفطر۔(رد المحتار علی الدر المختار : 2 / 395)

قال  ابن الھمام  رحمہ اللہ:والمفطر ،الداخل من المنافذ کالمدخل و المخرج لامن المسام،الذی ھو خلل البدن ؛ للاتفاق فی من شرع فی الماء ،یجد بردہ فی باطنہ،و لا یفطر وإنما كره أبو حنيفة الدخول في الماء والتلفف بالثوب المبلول ؛لما فيه من إظهار الضجر في إقامة العبادة لالأنه قريب من الإفطار ۔(فتح القدير:257/2)

جمیل الرحمٰن   بن محمد ہاشم 

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

20رمضان المبارک1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب