| 84373 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
اگر مذکورہ بالا سوال کے تحت زکوۃ ادا نہیں ہوئی تو اس صورت میں جو رقم اب تک زکوۃ کی مد میں جاچکی ہیں اس کا کیا حکم ہوگا؟ اور آگے اس کا شرعی حل کیا ہوگا کہ ادارہ خود سے زکوۃ کی رقم کو حقدار/مستحقین کے بچوں کی تعلیمی کفالت کے تحت براہِ راست ان کے تعلیماتی اخراجات میں خرچ کرسکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اب تک زکوة کی جو رقم مستحقین کو پہلے سے اطلاع دیئے بغیر فیس کی مد میں ادا کی گئی ہے اس کی زکوة ادا نہیں ہوئی،لہذا اس کا اعادہ لازم ہے،جبکہ آئندہ کے لئے اس کی آسان ممکن صورت یہ ہے کہ آپ ایک وکالت نامہ فارم بنائیں اور جن مستحق فیملیوں کے بچوں کو آپ یہ سہولت فراہم کرنا چاہتے ہیں اگر وہ بچے بالغ ہوں تو بذات خود ان سے اس فارم پر دستخط لے لیں،جبکہ نابالغ طلبہ کے ایسے سرپرستوں سے دستخط لئے جائیں جو خود صاحبِ نصاب نہ ہوں،اس کے بعد آپ اس مد میں وصول ہونے والی رقم کو براہ راست ان بچوں کے تعلیم و تعلم کے اخراجات میں خرچ کرسکیں گے۔
وکالت نامہ فارم کی عبارت یوں بنائی جاسکتی ہے کہ:
میں بالغ طالب علم /نابالغ طالب علم کا سرپرست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکول کےانچارج /منتظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو اس بات کا اختیار دیتا ہوں کہ وہ میری/ میرے زیر ِ کفالت بچے/بچی کی طرف سے وکیل بن کر لوگوں سے زکوۃ اور صدقات واجبہ وصول کریں، پھر میری طرف سے وکیل بن کر میری / ان کی اور دیگر مستحق طلبہ کے تعلیم و تعلم کی ضروریات پر خرچ کریں۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (2/ 349):
"(و) لا إلى (طفله) بخلاف ولده الكبير وأبيه وامرأته الفقراء وطفل الغنية فيجوز لانتفاء المانع.
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ (قوله: وطفل الغنية) أي ولو لم يكن له أب بحر عن القنية (قوله: لانتفاء المانع) علة للجميع والمانع أن الطفل يعد غنيا بغنى أبيه بخلاف الكبير فإنه لا يعد غنيا بغنى أبيه ولا الأب بغنى ابنه ولا الزوجة بغنى زوجها ولا الطفل بغنى أمه ح في البحر".
"بدائع الصنائع " (4 / 3):
"ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز ؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير ؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم" .
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
24/محرم الحرام1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


