| 87524 | پاکی کے مسائل | وضوء کی سنتیں،آداب اور مکروہات |
سوال
آٹھ سال پہلے جب میں دس سال کی تھی، میرے گھر میں رنگ کروایا گیا ، اس وقت میں نے پینٹ کرنے والے اَنکل/ Uncle سے ہاتھ ملایا جس سے میرے ہاتھوں پر پینٹ لگ گیا۔ میری والد ہ نے مجھے کہا کہ پینٹ کو اچھی طرح سے ہٹا دو ،ورنہ پانی جلد تک نہیں پہنچ پائے گا جس سے وضو نامکمل رہ جائے گا۔ اس واقعے نے مجھےOCD کا شکار کر دیا، جس نے میری زندگی کو بہت متاثر کیا۔اس سے نمٹنے کے لیےمیں نے دن بھر موزے پہننا شروع کر دیےتاکہ پاؤں پر فرش سے کوئی گندگی یا رکاوٹیں/ Barriers نہ لگیں ، میں نے دوسروں سے ہاتھ ملانا چھوڑ دیا ، ہاتھوں میں دستانے پہننے لگی ،اور باہر کا کھانا کھانا چھوڑ دیا، کیونکہ ریستوران، فیکٹریاں اور بیکریاں اکثر صفائی کو نظرانداز کرتی ہیں اور اس سے ان کے برتن یا باورچی / Cook کے ہاتھوں سے رکاوٹیں منتقل ہو سکتی ہیں۔
میں باہر سے آنے والی ہر چیز کواچھی طرح دیکھتی (اورCheck کرتی) ہوں کہ کہیں اس پر کوئی بیرئیرز نہ ہو ں جو میرے جسم سے چپک جائیں اور میرا وضو اور غسل نامکمل رہ جائےگا، اسی طرح جب بھی کوئی گندی چیز میرے جسم کو چھوتی ہے، میں اسے تین سے چار بار صابن سے دھوتی ہوں یا دیر تک اس جگہ کو ٹارچ لائٹ سے چیک کرتی ہوں اور ڈرتی ہوں کہ اگر کوئی بیرئیرلگا رہ گیا تو میرا وضو اور غسل نامکمل رہ جائے گا۔میرے کچھ اورسوالات بھی ہیں، برائےکرم ہر سوال کا تفصیلی جواب دیں اور کوئی ایسا طریقہ بتا ئیں کہ جس سے میں لوگوں سے ہاتھ ملانے یا دیگر چیزوں کو بغیر کسی ڈر کے استعمال کر سکوں۔یہ سوال اوران کا جواب حاصل کرنے میں مجھے کئی سال لگ گئے ، اور ان سالوں میں میرا OCD پھیلتا گیا،لہٰذا کوئی ایسا جواب دیں کہ اس سے میری زندگی ٹھیک ہوجائےاور میں نارمل زندگی گزار سکوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں یہ بات درست ہے کہ جسم پر کسی ایسی چیز کے لگے رہنے سے جو جلد تک پانی پہنچے میں رکاوٹ ہوتو وضویا غسل نامکمل رہتا ہے،لیکن اس سے یہ سمجھ لینا کہ جسم پر جو چیز بھی لگ جائے تو وہ پانی کے جسم تک پہنچنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے،پھر اسی خوف سے دن بھر موزے اور دستانے پہننا، بازار سے خریدی گئی ہر چیزمیں شک و شبہ کا شکاررہنااور کوئی چیز جسم پر لگ جائے تو بار بارصابن سے دھوکر ٹارچ لائٹ سے چیک کرنا غلط فہمی اور خواہ مخواہ کا تکلف ہے،نیز وضو میں ہر عضو کوتین بار سے زیادہ دھونایا غسل میں تین بار سے زیادہ پانی بہانا مکروہ اور پانی کو ضائع کرنا ہے،لہذااس غلط فہمی کو دور کرکےآئندہ وضو اور غسل میں سنت طریقے کے مطابق تین بار سے زیادہ پانی بہانےسےسختی سے اجتناب کیا جائے،اورکھانے پینے کی چیزوں سے جسم پر کچھ لگ جانے کے شک وشبہ اور ایسے وساوس کی طرف قطعاً توجہ نہ دی جائے ،چند دنوں تک اس بات کااہتمام کرنے سے ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی نارمل حالت پر آجائے گی۔
باقی لوگوں میں نامحرم یعنی وہ افراد جن سے شرعا پردہ ضروری ہےتو ان سے ہاتھ ملانا بھی ناجائز ہے،جبکہ وساوس یا Obsessive-Compulsive Disorder)) OCDسے چھٹکارے کے لیے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذات پرمکمل یقین، ہمیشہ اس کی نعمتوں کو سوچ کران پر شکر گزاری ، اورصحت و سلامتی ،علم نافع اور اس کے مطابق عمل کی دعاکا اہتمام کیاجائے،اور دینی احکام ومسائل سمجھنے کے لیے تسہیلِ بہشتی زیور(مطبوعہ : مکتبہ الحجاز، کراچی) کا اپنے طور پر روزانہ کچھ دیر مطالعہ کیا جائے،اگر کہیں کوئی بات سمجھنے کی ضرورت ہوتو وہ زبانی یا استفتاء کی صورت میں کسی معتبر دارالافتاء سے معلوم کر لی جائے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:1/ 120):
أقول: وصريح ما في البدائع أنه لا كراهة في الزيادة والنقصان مع اعتقاد سنية الثلاث، ولذا ذكر في البدائع أيضا أن ترك الإسراف والتقتير مندوب، ويوافقه ما في التتارخانية: لا يكره إلا أن يرى السنة في الزيادة، وهو مخالف لما مر، من أنه لو اكتفى بمرة واعتاده أثم، ولما سيأتي بعد ورقة من أن الإسراف مكروه تحريما ومنه الزيادة على الثلاث؛ ولهذا فرع في الفتح وغيره على القول بحمل الوعيد على اعتقاد سنية الزيادة أو النقص بقوله: " فلو زاد " لقصد الوضوء على الوضوء، أو لطمأنينة القلب عند الشك، أو نقص لحاجة لا بأس به، فإن مفاد هذا التفريع أنه لو زاد أو نقص بلا غرض صحيح يكره وإن اعتقد سنية الثلاث، وبه صرح في الحلية فقال: وهل لو زاد على الثلاث من غير قصد لما ذكر يكره؟ الظاهر نعم؛ لأنه إسراف.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
5 /ذوالقعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


