03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترک چیزکو وقف کرنے کا حکم
86523وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

مفتیان کرام  درج ذیل مسائل کے  بارے میں کیا فرماتے ہیں:
1.    مشترک چیز کا وقف ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
2.    مال وقف فروخت کرنے کے بعد اگر وہ سودا ختم کرنا ممکن نہ ہوتو ااس کی  رقم  کہاں استعمال کی جائے ؟
3.    وقف کرنے کے بعد اس کو توڑا جا سکتاہےیا نہیں ؟
 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1.    مشترک  چیز کے وقف کی صحت کے لیے تمام شرکا کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر ایک شریک بھی راضی نہ ہو یا رضا کی اہلیت نہ رکھتا ہو  تو وقف جائز نہیں ۔
2.    وقف کرنے کے بعد اس کی خرید  وفروخت ہی درست نہیں۔
3.    وقف جب صحیح ہوجائے تو موقوفہ چیز تا قیامت واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ رب العزت کی ملکیت  میں داخل ہو جاتی ہے اور وقف  کے مکمل ہونےکے بعد  اس کی خرید  وفروخت کرنا، ہبہ کرنا،  کسی کومالک بنا نا اور اس کو وراثت میں تقسیم کرنا شرعا جائز نہیں۔

حوالہ جات

في الهندية: وقف المشاع المحتمل للقسمة لا يجوز عند محمد - رحمه الله تعالى - وبه أخذ مشايخ بخارى وعليه الفتوى كذا في السراجية .(الفتاوى  الهندية: 2/365)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : قولهم: شرط الواقف كنص الشارع، أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به. (رد المحتار : 433/4)
و فيه: مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره (قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي، وأكثر المشايخ عليه مجتبى وهو الأوجه فتح ".(رد المحتار : 358/4)

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
19/رجب6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب