| 86210 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ ویڈیو ایڈیٹنگ بیک گراؤنڈ میوزک اور غیرمحرم عورتوں کے ویڈیو کلپ کی وجہ سے اس کی انکم بعض علماءکے نزدیک جائز نہیں اور بعض کہتے ہیں کہ دور حاضر کے مسائل کو دیکھا جائے تو اس کی گنجائش ہے جبکہ ویڈو کا مقصد بیک گراؤنڈ میوزک اور غیر محرم عورتوں کے ویڈیو کلپس نہ ہو۔ ویڈیوایڈیٹنگ میں،میں کسی شخص، کمپنی یاگاڑی کےمالک کےلیےایک ٹوپک پرپیسےکے عوض ویڈیوبناتاہوں،ویڈیو بیک گراؤنڈ میوزک وائس اور کے ساتھ چلتی ہے جو کہ ہلکی محسوس ہوتی ہے ، ویڈیو میں کوئی فحش قسم کی کلیپ استعمال نہیں کی جاتی ،Zem Tvویڈیوز سے رہنمائی لی جا سکتی ہے کہ کس طرح کا ویڈیو بنانا ہمارا مقصد ہے؟اگر اس کی کمائی جائز نہیں ہے تواگرہم بیک گراؤنڈ میوزک اور غیر محرم خواتین پرمشتمل کلپس کے پیسے ویڈیو کے پیسے سے الگ کرکے کسی ضرورت مند کو دیں،تو باقی پیسے ہمارے لیے جائز ہو سکتے ہیں یانہیں؟
تنقیح:سائل نے بذریعہ فون وضاحت کی کہ بیک گراونڈ میوزک لگانے پر وہ مجبورہے، نہ لگانے پر ویڈیوبنوانے والے پورا پروجیکٹ منسوخ کرتےہیں۔اس طرح ہر ویڈیومیں غیرمحرم خواتین کی کلپ بھی کسی نا کسی طریقہ سے آجاتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیک گراؤنڈ میوزک اور غیرمحرم خواتین کے کلپس پر مشتمل ویڈیو ایڈیٹنگ ناجائزہےاور اس کی کمائی حلال نہیں ۔ چونکہ معاہدے میں بیک گراؤنڈ میوزک لازمی قراردیاگیاہےاور غیرمحرم خواتین کے کلپس میں بھی فلٹریشن کا آپشن نہیں دے رہے،لہذاآپ اس کاروبار کی بجائے کوئی جائز کاروبار تلاش کریں ۔اور جتنی کمائی اب تک کی ہے اس میں سے اندازہ لگاکر بیک گراؤنڈ میوزک اور خواتین کی کلپس کے بقدرپیسے الگ کرکے بلانیتِ ثواب کے صدقہ کردیں۔ اگربیک گراؤنڈ میوزک اورغیرمحرم خواتین پر مشتمل کلپس کےپیسے الگ کرناممکن نہ ہو جوکہ بظاہر لگتا بھی ایساہے(کیونکہ پورا پروجیکٹ میوزک پرموقوف ہے) توپھر تمام کمائی بلانیتِ ثواب صدقہ کردیں۔
ویڈیوایڈیٹنگ مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائزہے:
ویڈیوایڈیٹنگ کسی جائز مقصد کےلیےکیاگیاہو۔
ویڈیوایڈیٹنگ میں کسی قسم کی خلاف شرع کلپس اور مواد شامل نہ ہو۔
جو اشتہارات چلتے ہوں بنیادی طور پر وہ کسی حلال پروڈکٹ یا کاروبار سے متعلق ہوں۔
ویڈیو میں خلافِ شرع اشتہارات کوفلٹرزکردیاجائے(یعنی خلاف شرع اشتہارات مثلاً میوزک اور غیرمحرم خواتین پر مشتمل اشتہارات نہ چلتے ہوں(۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن کثیر رحمہ اللہ:وقوله تعالٰی: { وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان } يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل،والتعاون على المآثم والمحارم.( تفسير ابن كثير:( 301/3
قال الشیخ المفتی محمد تقی العثماني حفظ اللہ:وأما الوظائف المرکبة من الخدمات المباحة والخدمات المحظورة ، فلایجوز قبولها لاشتمالها علیٰ عمل محرم.(فقہ البیوع:(1056/2
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:وقال في النهاية : قال بعض مشايخنا : كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه ، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة، يتورع الورثة ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم ، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه ا هـ.( رد المحتار:(385/6
قال الشیخ المفتی محمد تقی العثماني حفظ اللہ: ان المال مرکب من الحلال والحرام...والاولی فی ھذہ الصورۃ التنزہ، ولکن یجوزللآخذ ان یاٗخذ منہ مالہ ھبۃ اوشراء ،لان الاصل الاباحۃ وینبغی ان یقیدذالک باٗن یغلب علی ظن الآخذ ان الحلال فیہ بقدر مایأخذہ اواکثرمنہ. ( فقہ البیوع:(1038/2
وقال الشیخ حفظ اللہ في موضع آخر: فإن كان كذلك في خدمات الفنادق والمطاعم والبنوك وشركات التأمين، صارت أجرة الموظف فيها مركبة من الحلال والحرام... أما إذالم تعرف أجرة الخدمة المباحة على حدتها، فالإجارة فاسدة، ولكن الأجير يستحق أجر المثل في الإجارات الفاسدة …وعلى هذا ، فإن ما يُقابل أجر المثل للخدمة المباحة فى راتبه ينبغى أن يكون حلالاً.(فقہ البیوع:2/1058)
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
5 رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


