| 86186 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں ؟ مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں! ہندہ نے اپنا نکاح بغیر اجازت ولی اصلی کے پڑوس ملک پاکستان کے زید سے (ویڈیو کال پر) کیا۔ نکاح کے وقت لڑکی کی طرف سے لڑکی کی ایک سہیلی اور سہیلی کا دوست اور ایک لڑکا ویڈیو بنانے کا والا موجود تھا۔ لڑکے کے طرف سے لڑکے کے دو دوست اور قاضی موجود تھے۔ اور جو لڑکی کی طرف سے لڑکے تھے نا وہ لڑکی کو جانتے تھے اور نا لڑکی ان دونوں کو جانتی تھی اور لڑکے کی طرف سے بھی نا لڑکی قاضی کو جانتی تھی نا گواہان کو جانتی تھی لڑکے کا ایک دوست لڑکی کا وکیل بنا تھا پہلے وکیل بننے کی اجازت لی پھر نکاح کی اجازت لی۔ اور اجازت کے بعد لڑکی نے نکاح قبول کیا نہ کہ وکیل نے ۔ مجلس میں مہر کا ذکر بھی ہواتھا۔ اس کے علاوہ لڑکی قریشی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور لڑکا ڈومکی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ گواہان گواہی دینے سے انکار کر رہے ہیں کیا اس صورت میں نکاح ہو گیا یا نہیں ہوا؟
مذکورہ بالا صورت میں کیا وکیلوں کا بالعکس (لڑکی کا وکیل لڑکے کے پاس اور لڑکے کا وکیل لڑکی کے پاس ہونا شرط کے طور پر ہے؟) یا لڑکی اپنا وکیل مقرر کردے لڑکے پاس، تو کافی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں جب لڑکی کی اجازت سے وکیل نے پاکستان میں ایک مجلس میں دوگواہوں کی موجودگی میں زید کے ساتھ ہندہ کا نکاح پڑھایا تو بعد میں ہندہ قبول کرےیا نہ کرے ،یہ نکاح منعقد ہوگیا ہے۔البتہ اگر لڑکا غیرکفو (مال،نسب اور دینداری میں لڑکی کا ہم پلہ نہ ہو)ہو تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا اور دونوں کےلیے اس صورت میں ازدواجی تعلق رکھنا ناجائزہے۔ رہی بات وکیل بنانے کی تو اس میں صرف لڑکی اپنا وکیل مقررکردےاور وہ وکیل لڑکے کے ساتھ ایک مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرائیں تو کافی ہے ۔
واضح رہے کہ نکاح ایک حساس مسئلہ ہے اور والدین کواطلاع دیے بغیرخفیہ طور پرنکاح کرنا شرعاً،اخلاقاً اور معاشرۃ ً مناسب نہیں ،اس سے بعد میں بہت سارے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ،لہذا والدین کومطلع کرکے اعلانیہ طورپر نکاح کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
أخرج الإمام الترمذي رحمہ اللہ،عن عائشة رضي اللہ عنھا،قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعلنوا هذا النكاح، واجعلوه في المساجد، واضربوا عليه بالدفوف.هذا حديث غريب ،حسن في هذا الباب۔وعيسى بن ميمون الأنصاري يضعف في الحديث، وعيسى بن ميمون الذي يروي، عن ابن أبي نجيح التفسير هو ثقة. ( ألسنن للترمذي(390/2:
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالٰی:ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين. قوله:( اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد.( الدر المختارمع الرد:(14/3
قال العلامۃ الکاساني رحمہ اللہ: والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم أم حبيبة - رضي الله عنها - فلا يخلو ذلك إما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وإن فعله بغيرأمره فقد أجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده، والإجازة اللاحقة كالوكالة السابقة. )بدائع الصنائع:(231/2
قال العلامۃ سراج الدين الحنفي رحمہ اللہ: واعلم أن للإيجاب والقبول شرائط: اتحاد المجلس، فلو اختلف لم ينعقد، بأن أوجب أحدهما فقام الآخر قبل القبول واشتغل بعمل آخر". (النہر الفائق:178/2)
قال أصحاب الفتاویٰ الھندیۃرحمھم اللہ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود.(الفتاویٰ الھندیۃ:(294/1
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:(وله) أي للولي (إذا كان عصبة.....الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى.(الدرالمختارمع الرد:(56/3
جمیل الرحمٰن بن محمدہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


