03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سجدے کی وجہ سے پیشانی پر نشان بننا
86289نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

السلام علیکم !یہ جو نماز پڑھنے سے پیشانی پہ نشان بن جاتا ہے اس کے متعلق کیا حکم آتا ہے ؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں ہوتا ،رہنمائی فرما دیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کثرتِ سجود کی وجہ سے بعض لوگوں کی  پیشانی پر غیراختیاری طور پر سیاہ نشان بنتاہے،شرعاً  اس میں کوئی برائی نہیں۔ اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پیشانیوں پر کثرتِ سجود کے باوجود سیاہ نشان نہیں  بنتا،لہذا بزرگی کے لیے اس علامت کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس نشان کے متعلق قرآن  و حدیث میں کوئی تصریح موجود نہیں ،تاہم قرآن مجید میں  اہتمام سےنماز پڑھنے والوں کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ان کے چہروں پر سجدوں کااثرنمایاں ہوتا ہے۔   مفسرین نے اس  سےدنیامیں چہرے کی تروتازگی یاقیامت کے دن نور مراد لیا ہے ۔البتہ تفسیر خازن میں  اس کی توجیہ یہ مذکور ہے کہ اس سے  پیشانی پر  سجدہ کی وجہ سے پڑھنے والا  سیاہ نشان  مراد ہے۔اس لیے اگر سجدو ں کی وجہ سےپیشانی پر نشان بنے تو اس شخص کےحق میں  سعادت مندی ہوگی، لیکن اس کو ولایت کے لیے ضروری قرار دینا درست نہیں  اور نہ ہی پیشانی پرقصداً نشان بنانے کی کوئی تدبیر کرناجائزہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن مسعود البغوي رحمہ اللہ:سيماهم، أي علامتهم، في وجوههم من أثر السجود...فقال قوم: هو نور وبياض في وجوههم ‌يوم القيامة يعرفون به أنهم سجدوا في الدنيا، وهو رواية عطية العوفي عن ابن عباس، قال عطاء بن أبي رباح والربيع بن أنس: استنارت وجوههم من كثرة ما صلوا. وقال شهر بن حوشب: تكون مواضع السجود من وجوههم كالقمر ليلة البدر. (تفسير البغوي: (245/4

قال العلامۃ علاءالدین  الخازن رحمہ اللہ:(سيماهم)أي علامتهم(في وجوههم من أثرالسجود)...قيل هوأثرالتراب علی الجباه ؛لأنهم كانوا يصلون علی التراب لا علی الأثواب.(تفسيرالخازن:(173/4

قال العلامۃ إسماعیل الدمشقي رحمہ اللہ:وقوله: (سيماهم في وجوههم من أثر السجود): قال علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس: (سيماهم في وجوههم) يعني: السمت الحسن...وقال ابن أبي حاتم: حدثنا أبي، حدثنا علي بن محمد الطنافسي، حدثنا حسين الجعفي، عن زائدة، عن منصور عن مجاهد: (سيماهم في وجوههم من أثر السجود) قال: الخشوع قلت: ما كنت أراه إلا هذا الأثر في الوجه، فقال: ربما كان بين عيني من هو أقسى قلبا من فرعون.( تفسير ابن كثير:(361/7

قال الإمام البخاري رحمہ اللہ:وقال مجاهد: {سيماهم في وجوههم} [آية: 29]: السحنة، وقال منصور، عن مجاهد: التواضع.(صحیح البخاري:(256/4

       جمیل الرحمٰن بن محمدہاشم

   دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

11      رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب