| 86275 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
مجھے ایک ویب سائٹ میں کچھ تکنیکی مسائل کو حل کرنا ہے اور اس میں کچھ فیچرز شامل کرنے ہیں، جیسے کہ بلاگ سیکشن وغیرہ۔ لیکن وہ ویب سائٹ ایک یوٹیوب چینل پر مبنی ہے، جس پر وہ مالک اینیمی (کارٹون) اپلوڈ کرتا ہے۔ ان ویڈیوز میں مختلف قسم کے مناظر ہوتے ہیں، جن میں کچھ ایسی ویڈیوز بھی شامل ہوتی ہیں جو مکمل طور پر برہنہ نہیں ہوتیں لیکن انہیں دیکھنا مناسب بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ویب سائٹ یوٹیوب کے مواد کے لنکس اور ان کے تھمب نیلز دکھاتی ہے، اور اس کے علاوہ مختلف اینیمی کے مختلف پہلوؤں پر تبصرے وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اگر میں ایسا فیچر شامل کروں جو ان کے یوٹیوب چینل سے ویڈیوز خودکار طریقے سے حاصل کرکے ویب سائٹ پر دکھائے، تو جب وہ نازیبا مواد اپلوڈ کریں گے، وہ مواد بھی ویب سائٹ پر سکریپ ہو کر ظاہر ہو جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے یہ جائز ہوگا کہ میں اس ویب سائٹ کے تکنیکی مسائل حل کروں، بلاگ سیکشن شامل کروں، یا یوٹیوب ویڈیوز کے لیے خودکار فیچر ایڈ کروں؟ براہ کرم اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔
تنقیح:نازیبا مواد سے مراد اینیمی (کارٹون) ویڈیوزوغیرہ کاوہ منظر یا مناظر ہیں جو انڈین فلموں میں دکھائے جاتے ہیں، جس میں کارٹون نیم برہنہ دکھائے جاتے ہیں، اور کوئی شریف الطبع انسان فیملی ممبرز کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگر ویب سائٹ کا بنیادی کام یا اکثر کام ہی غلط ہے تو ایسی ویب سائٹ کے لئے خدمات فراہم کرنا جائز نہیں، لیکن اگر بنیادی کام یا اکثرکام غلط نہیں تو ایسی ویب سائٹ کے لئے کام کرنا جائز تو ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اس سے بچا جائے۔
سوال میں مذکور فیچر اگر صرف نازیبا مواد اپلوڈ کرنے یا دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہو تو ویب سائٹ پر ایسا فیچر شامل کرنا جائز نہیں ہے،لیکن اگر اس فیچر کا استعمال جائز اور ناجائزدونوں طریقوں سے ممکن ہو، اور صرف ناجائز استعمال یقینی نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ فیچر شامل کرنا جائز ہوگا، تاہم بہتر یہ ہے کہ اس سے بچا جائے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(02/05):
{وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان}
احکام القرآن للجصاص(296/03):
"وقوله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."
المبسوط للسرخسي (16/ 39):
قال الامام السرخسی رحمہ اللہ:ولا بأس بأن يؤاجر المسلم دارا من الذمي ليسكنها فإن شرب فيها الخمر، أو عبد فيها الصليب، أو أدخل فيها الخنازير لم يلحق المسلم إثم في شيء من ذلك؛ لأنه لم يؤاجرها لذلك والمعصية في فعل المستأجر وفعله دون قصد رب الدار فلا إثم على رب الدار في ذلك كمن باع غلاما ممن يقصد الفاحشة به، أو باع جارية ممن لا يشتريها، أو يأتيها في غير المأتى لم يلحق البائع إثم في شيء من هذه الأفعال التي يأتي بها المشتري.
تفصيل الكلام في مسئلة الاعانة على الحرام(439-453/02):
فتنقيح الضابطة في هذا الباب على مامن به على ربي ان الاعانة على المعصية حرام مطلقا بنص القران اعنى قوله تعالى " ولا تعاونوا على الاثم والعدوان" وقوله تعالى " فلن ا كون ظهيرا للمجرمين " ، ولكن الاعانة حقيقة هي ما قامت المعصية بعين فعل المعين ولا يتحقق الا بنية الاعانة اوالتصريح بها او تعينها في استعمال هذ الشيئ بحيث لا يحتمل غير المعصية، وما لم تقع المعصية بعينه لم يكن من الاعانة حقيقة بل من التسبب، ومن اطلق عليه لفظ الاعانة فقد تجوز لكونه صورة اعانة كما مر من السيرالكبير۔
ثم السبب ان كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية فالتسبب فيه حرام كالاعانة على المعصبة بنص القران كقوله تعالى " لاتسيوا الذين يدعون من دون الله " وقوله تعالى " فلا يخضعن بالقول " وقوله تعالى " لا تبرجن " الآية، وان لم يكن محرکا و داعيا بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في اقامة المعصية به إلى احداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من اهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذه خمرا وبيع الامرد من يعصي به واجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر او يتخذها كنيسة او بيت نار و امثالها، فكله مكروه تحريما بشرط ان يعلم به البائع والأجر من دون تصريح به باللسان، فانه ان لم يعلم كان معذورا، وان علم ومكان داخلا في الاعانة المحرمة۔و ان كان سببا بعيدا بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه كبيع الحديد من اهل الفتنة وامثالها فتكره تنزيها."
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11 /رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


