03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیر وضو نماز پڑھانے کا حکم
86264نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

میرے ایک ساتھی نے ڈیڑھ سال مدرسے میں قرآن پڑھایا اور ساتھمہتممکی غیرموجودگی میں امامت بھی کروائی۔ امامت کے دوران کبھی وضو اور کبھی بے توجہی کی وجہ سے لوگوں کی نماز ٹھیک سے ادا نہیں ہوئی۔ دو سال بعد اللہ نے اسے ہدایت دی، اور اب وہ شرمندہ ہے۔ اسے اپنے عمل کا احساس ہوا اور اس نے توبہ و استغفار بھی کی۔اس نے مدرسے کے مہتمم کو وائس میسج کے ذریعے بتایا کہ میرا نام راز میں رکھ کر لوگوں کو اس بات سے آگاہ کر دیں، لیکن مہتمم ناراض ہو گیا اور کہنے لگا کہ وہ جہاں پڑھا رہا ہے، میں وہاں یہ بات سب کو بتاؤں گا اور لوگوں کو بھی بتاؤں گا کہ یہ نماز خراب کرتا تھا، اور راز نہیں رکھوں گا۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ استاد اللہ کے ہاں مجرم ہے یا نہیں؟ اور اسے اب کیا کرنا چاہیے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طہارت (باوضو ہونا)نماز کے لیے شرط ہے، بغیر وضو کے نماز صحیح نہیں ہوتی ،بلکہ بغیر وضو کے نماز پڑھنا اور پڑھانا سخت گناہ ہے ،اور اس سے کفر کا اندیشہ  ہوتا ہے، لہٰذا آپ کا دوست  اس عمل پرسخت گناہ گار ہوا، ان پر لازم ہےکہ  کثرت سے  توبہ و استغفار کرے،توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ امامِ مذکور پر خود بھی تمام نمازیں قضاء کرنا لازم ہے اورچونکہ امام مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہوتا ہے،اس لئے جتنے دنوں کی نمازیں اس امام نے بے وضو پڑھائی ہیں، مقتدیوں کو بھی حتی الامکان اس بات کی اطلاع کرنا ضروری ہے، تاکہ مقتدی ان دنوں کی نماز وں کی قضاء کرلیں ،البتہ جن مقتدیوں کو اطلاع دینا  امام کے لیے ممکن نہ ہو ،یا جن مقتدیوں کی تعیین نہ ہو تو ان کو خبر پہنچانے کا امام   مکلف نہیں ہے، باقی جن لوگوں تک رسائی ممکن ہے ان کو  مسجد میں اعلان کر کے یامہتمم کے  واسطے سے یا کسی بھی ذریعےسےخبر دے دے ۔

لیکن جہاں تکمہتمم کا امامِ مذکور کا نام راز میں نہ رکھنے کی بات ہےتو چونکہ  امامِ مذکور یہ مسجداور محلہ چھوڑچکا ہے اور اب کسی دوسرے محلے کے  مسجد میں امام یا مدرس ہے،اور صدقِ دل سے توبہ کرنے کے ساتھ اس عمل پر شرمندہ بھی ہے، لہٰذا مہتمم صاحب پرلازم ہے کہ اس کے  راز پوشیدہ رکھےاور  دوسرے محلے کے لوگوں کوبالکل بھی  نہ بتائے۔

اسی طرح مہتمم کو چاہئے کہ اپنی مسجدمیں مقتدیوں کو  امامِ مذکور کا نام بتائے بغیر کہے  کہ ایک سابق  امام کی اقتدا میں تم لوگوں نےاتنے دنوں یا اتنی (جو نمازوں کی  تعدادہووہ بتائے)  نمازیں پڑھی ہیں ،وہ نمازیں کسی وجہ سےادا نہیں ہوئی ہیں، لہٰذاآپ حضرات وہ نمازیں لوٹالیں،اور اگرمقتدی نام کا استفسار کرے توحتی الامکان کوشش کی جائے کہ امام کا نام ظاہر نہ ہو۔

حوالہ جات

{إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُوْلَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ} [الفرقان:70]

سنن الترمذي (4/ 54):

‌ومن ‌ستر ‌على ‌مسلم ‌في ‌الدنيا، ‌ستر ‌الله ‌عليه ‌في ‌الدنيا ‌والآخرة، والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 114):

وأما شرائط الأركان فجملة الكلام في الشرائط أنها نوعان: نوع يعم المنفرد والمقتدي جميعا، وهو ‌شرائط ‌أركان ‌الصلاة ونوع يخص المقتدي، وهو شرائط جواز الاقتداء بالإمام في صلاته.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 591):

(وإذا ظهر حدث إمامه) وكذا كل مفسد في رأي مقتد (بطلت فيلزم إعادتها) لتضمنها صلاة المؤتم صحة وفسادا (كما يلزم الإمام إخبار القوم إذا أمهم وهو محدث أو جنب) أو فاقد شرط أو ركن. وهل عليهم إعادتها إن عدلا، نعم وإلا ندبت وأجبر عليه (بالقدر الممكن) بلسانه أو (بكتاب أو رسول على الأصح) لو معينين وإلا لا يلزمه بحر عن المعراج.

قال ابن عابدين (قوله وإذا ظهر حدث إمامه) أي بشهادة الشهود أنه أحدث وصلى قبل أن يتوضأ أو بإخباره عن نفسه وكان عدلا وإلا ندب كما في النهر... (قوله وكذا كل مفسد في رأي مقتد) أشار إلى أن الحدث ليس بقيد؛ فلو قال المصنف كما في النهر: ولو ظهر أن بإمامه ما يمنع صحة الصلاة لكان أولى، ليشمل ما لو أخل بشرط أو ركن،(قوله لتضمنها) أي تضمن صلاة الإمام، والأولى التصريح به وأشار به إلى حديث "الإمام ضامن" إذ ليس المراد به الكفالة، بل التضمن بمعنى أن صلاة الإمام متضمنة لصلاة المقتدي ولذا اشترط عدم مغايرتهما، فإذا صحت صلاة الإمام صحت صلاة المقتدي إلا لمانع آخر، وإذا فسدت صلاته فسدت صلاة المقتدي لأنه متى فسد الشيء فسد ما في ضمنه.... (قوله بالقدر الممكن) متعلق بإخبار، وقوله على الأصح متعلق بيلزم (قوله لو معينين) أي معلومين. وقال ح: وإن تعين بعضهم لزمه إخباره (قوله وإلا) أي وإن لم يكونوا معينين كلهم أو بعضهم لا يلزمه.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

05/رجب /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب