03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حیض کے دوران طلاق کا حکم
86295طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

السلام وعلیکم!میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر نے مجھے 24 تاریخ کو تین طلاق کا اسٹامپ پیپر بھیجا ۔20 کو انہوں نے طلاق کے پیپر بنوائے ۔اس پروسس کے دوران میں حیض میں تھی۔انکو حیض کا علم نہ تھا۔ ہم میاں بیوی چھ سال سے الگ رہتے ہیں۔کورٹ میں ہمارا کیس چل رہا تھا۔میں اپنا گھر بچانا چاہتی ہوں۔برائے مہربانی میری رہنمائی کریں۔مجھے فتویٰ درکار ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  حالتِ حیض میں طلاق دینا شریعت کی نظر میں انتہائی نا پسندیدہ ہے، تاہم  اس صورت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا جب شوہر نے طلاق کے کاغذات بنالیے تو اب تین طلاقیں ہو چکی ہیں۔ آپ عدت کے بعد کسی دسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔

حوالہ جات

قال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة) لو قال: والبدعي ما خالفهما لكان أوجز وأفيد (وتجب رجعتها) على الأصح (فيه) أي في الحيض رفعاً للمعصية.

(قوله: وتجب رجعتها) أي الموطوءة المطلقة في الحيض (قوله: على الأصح) مقابله قول القدوري: إنها مستحبة ؛ لأن المعصية وقعت فتعذر ارتفاعها، ووجه الأصح قوله صلى الله عليه وسلم لعمر في حديث ابن عمر في الصحيحين: ''مر ابنك فليراجعها''.)رد المحتار (3/ 232:

محمد اسماعیل بن نجیب الرحمان

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۱۰رجب ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل ولد نجیب الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب