| 86325 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
راولپنڈی میں کال سینٹر ہوتے ہیں ۔ کال سینٹر میں نوکری ٹھیک ہے یا نہیں اور اُسکی آمدنی حلال ہے یا حرام؟
سوال کی تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ مذکورہ کال سینٹرز میں ہمارا کام بیرون ممالک میں موجود ہسپتالوں کےلیے کسٹمر ڈھونڈنے ہوتے ہیں ۔اس کے لئے ہم اپنا نام ،آئی ڈی وغیر دوسرے کسی ملک کا بتا تے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کال سینٹر میں کمیشن پر جو کام کیا جاتا ہے ،اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کمیشن جائز اشیاءو خدمات کی مارکیٹنگ پر لی جائے تو وہ حلال ہےاور اگر ناجائز چیزوں کی مارکیٹنگ پر لی جا ئے تووہ حرام ہے۔ مذکورہ صورت میں آپ کی خدمات بھی چونکہ ہسپتال کی میڈیکل فیسلیٹی کی مارکیٹنگ سے متعلق ہیں، اور آپ کو کمیشن بھی اس کے بدلے میں ملتی ہے ، لہذا آپ کی آمدن حلال ہے۔
چونکہ اس ملازمت میں آپ کو اپنا نام تبدیل کرکے اپنی شناخت ایک غیر مسلم نام کےساتھ ظاہر کرنی پڑتی ہے،جو ایک طرح کا جھوٹ اور دھوکہ ہے، اس وجہ سے آپ کے لیے اس ملازمت او رکام کوجاری رکھنا جائز نہیں ۔
اگر آپ کےپاس کوئی اور ذریعہ آمدن ہے اور اس ملازمت پر آپ کے خرچے منحصر نہیں ہیں تو فورا ہی اس کام کو چھوڑ دیں ۔ اگر آپ کے پاس کوئی اور زریعہ آمدن نہیں ہے، تو جب تک کوئی دوسری ملازمت نہیں مل جاتی، آپ یہ کام جاری رکھیں ،اور اس کے ساتھ ساتھ بے روزگار آدمی کی طرح کوئی اور ذریعہ آمدن بھی تلاش کریں ،اس کے ساتھ ساتھ کثرت سے استغفار بھی جاری رکھیں۔(ماخوذ از تبویب 84483)
حوالہ جات
البخاري(1/ 16) :
حدثنا سليمان أبو الربيع قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان.
حاشية ابن عابدين (6/ 63) :
مطلب في أجرة الدلال [تتمة]قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام .
رد المحتار ( 5/ 47 (:
قال العلامۃ ابن عابدین رحمه الله: (قوله: لأن الغش حرام)… لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة.
صحيح مسلم رقم الحدیث2607 : 8/ 29 :
أخرج الإمام مسلم عن عبد الله رضي اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الصدق بر،وإن البر يهدي إلى الجنة. وإن العبد ليتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا. وإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب حتى يكتب كذابا .
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
10/رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


