03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹی اور چچا کے درمیان ترکہ کی تقسیم
86405میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص فوت ہوا  ہے اور اس کی دوبٹیاں ہیں، لیکن ان دونوں میں سے ایک بیٹی کا انتقال والد کی زندگی میں ہوا،اب ورثاء میں ایک بیٹی ہے اور  میت کاایک بھائی  ہے۔ جس بیٹی کا انتقال  والد کی زندگی میں ہوا تھا اس کی اولاد موجود ہے۔ اب ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی اور کس وارث کو کتنا حصہ ملے گا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ميت كے ترکہ میں سے  سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات )اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو(نکالے جائیں گے، اس کے بعد  مرحوم کے ذمہ واجب  قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (1/3) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے ۔صورت مسئولہ میں اگر  واقعتا مرحوم کے صرف یہی دو ورثاء ہیں  تو   کل ترکہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، آدھا حصہ   مرحوم کی بیٹی کو ملے گا، جبکہ باقی آدھا حصہ مرحوم کے بھائی کو ملے گا۔

ورثاء

حصص

فیصد

بیٹی

کل مال کا نصف حصہ

۵۰%

بھائی

کل مال کا باقی نصف

۵۰%

 

 

 

جس بیٹی کا انتقال والد کی زندگی میں ہوا ، اس کی اولاد  کا شرعا تو کوئی حق نہیں بنتا، البتہ اگر ورثہ از خود طیب نفس سے کچھ دینا چاہیں  تو بہتر ہے، خاص کر جب وہ صدقہ کے مستحق ہوں۔

حوالہ جات

سورۃ النسآء، آیت نمبر ۸:

وَ  اِذَا  حَضَرَ  الْقِسْمَةَ  اُولُوا  الْقُرْبٰى  وَ  الْیَتٰمٰى  وَ  الْمَسٰكِیْنُ  فَارْزُقُوْهُمْ  مِّنْهُ  وَ  قُوْلُوْا  لَهُمْ  قَوْلًا  مَّعْرُوْفًا.

سورۃ النسآء، آیت نمبر ۱۱:

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 448):

وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

15/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب