| 87607 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک سرکاری ملازم دورانِ ڈیوٹی فوت ہو گیا۔ مرحوم کی دو بیویاں تھیں: پہلی بیوی سے چار بیٹیاں ہیں اور دوسری بیوی سے ایک بیٹا ہے۔وفات کے بعد دوسری بیوی کے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں (پہلی بیوی) کو دو لاکھ روپے دینے کی ذمہ داری لی۔ اس پر عبدالنبی نامی شخص نے ضامن بن کر کہا کہ اگر بیٹا رقم ادا نہ کرے تو میں (عبد النبی ) یہ رقم ادا ان سے کر دوں گا۔بعد ازاں، سوتیلی ماں نے گواہوں کی موجودگی میں اپنے سوتیلے بیٹے کو یہ رقم معاف کر دی۔ لیکن کچھ عرصے بعد وہی خاتون (سوتیلی ماں) ضامن عبدالنبی سے دوبارہ اس رقم کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسی صورت میں اس خاتون کا دوبارہ مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں، جب کہ وہ گواہوں کی موجودگی میں یہ رقم معاف کر چکی ہیں ؟
تنقیح: سائل سے زبانی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ دو لاکھ روپے مرحوم کی بیوی کا حصئہ میراث تھا، جواُنہیں ترکے سے ملنا تھا۔ مرحوم کے بیٹے نے ازخود یہ ذمہ داری لی کہ وہ یہ رقم اپنی سوتیلی والدہ (مرحوم کی پہلی بیوی) کو ادا کرے گا۔
As a guarantee, he said that if the son does not pay the money, I (Abdul Nabi) will take this money from them.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شرعی اصول کے مطابق مال یا متعین چیز کی حوالگی کی ضمانت دینا درست ہے، خواہ وہ قرض (دَین) ہو یا نہ ہو،لہٰذا عبدالنبی کامرحوم کی بیوی کاحصئہ میراث کی ادائیگی کےلئےماں اور بیٹے کے درمیان ا س طرح کفیل بننا کہ "اگر بیٹا رقم ادا نہ کرے تو میں یہ رقم اس سے لے کر دوں گا" درست ہے، کیونکہ یہ کفالت بتسلیم المال (مال کی حوالگی کی ضمانت)کے تحت آتا ہے۔
نیز یہ بھی یاد رہے کہ میراث میں قبضے سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصے سے بلا عوض دست بردار ہونا یا معاف کرنا شرعاً معتبر نہیں ہوتا،لہٰذاسوتیلی ماں کا بیٹے کو میراث کی رقم معاف کرنا شرعاً معتبر نہیں اور وہ بدستور سوتیلے بیٹے سے اپنا حصہ طلب کرنے کی حقدار ہے۔
البتہ، مرحوم کی بیوی عبدالنبی سے براہِ راست یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ وہ اپنی طرف سے رقم ادا کرے، بلکہ وہ صرف یہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ "بیٹے سے میرے پیسے دلوائے جائیں"، کیونکہ عبدالنبی نے اپنی طرف سے ادائیگی کی ضمانت نہیں دی، بلکہ صرف اتنی ضمانت دی ہے کہ "بیٹے سے رقم دلواؤں گا"۔
حوالہ جات
«غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر» (3/ 354):
«قوله: كذا في جامع الفصولين. يعني في الثامن والثلاثين وعبارته: قال أحد الورثة برئت من تركة أبي؛ يبرأ الغرماء عن الدين بقدر حقه لأن هذا إبراء عن الغرماء بقدر حقه فيصح ولو كانت التركة عينا لم يصح. ولو قبض أحدهم شيئا من بقية الورثة وبرئ من التركة وفيها ديون على الناس لو أراد البراءة من حصة الدين صح لا لو أراد تمليك حصته من الورثة لتمليك الدين ممن ليس عليه، ثم ذكر ما ذكره المصنف هنا من قوله: لو قال وارث تركت حقي إلى آخر كلامه وفيه التصريح بأن إبراء الوارث من إرثه في الأعيان لا يصح وقد صرحوا بأن البراءة من الأعيان لا تصح»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 281) (5/ 300):
«(قوله: أو بدين أو عين) زاد بعضهم رابعا وهو الكفالة بتسليم المال، ويمكن دخوله في الدين. قلت: وكذا بتسليم عين غير مضمونة كالأمانة وسيأتي تحقيق ذلك كله. (قوله: كمغصوب ونحوه) أي من كل ما يجب تسليمه بعينه، وإذا هلك ضمن مثله أو قيمته، كالمبيع فاسدا والمقبوض على سوم الشراء والمهر وبدل الخلع والصلح عن دم عمد احترازا عن المضمون بغيره كالمرهون وغير المضمون أصلا كالأمانة، فلا تصح الكفالة بأعيانها.»...........
(قوله: وأما كفالة المال إلخ) معطوف على قوله وكفالة النفس قال في شرح الملتقى: وزاد بعضهم الكفالة بتسليم المال.ويمكن دخوله في المال فلا يحتاج إلى جعله قسما ثالثا فتأمل اهـ.وهو ظاهر ما في البحر عن التتارخانية له مال على رجل فقال رجل للطالب ضمنت لك ما على فلان أن أقبضه وأدفعه إليك، قال ليس هذا على ضمان المال أن يدفعه من عنده إنما هو على أن يتقاضاه ويدفعه إليه، وعلى هذا معاني كلام الناس،........ ..ثم قال: لو أتى بهذه الألفاظ منجزا لا يصير كفيلا، ولو معلقا كقوله لو لم يؤد فأنا أؤدي فأنا أدفع يصير كفيلا اهـ. مطلب كفالة المال قسمان: كفالة بنفس المال وكفالة بتقاضيه، وقد علم بما مر أن كفالة المال قسمان، كفالة بنفس المال وكفالة بتقاضيه، ومن الثاني الكفالة بتسليم عين كأمانة ونحوها كما يأتي،»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


