| 87548 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہم تین بھائی ہیں ۔میرے والد صاحب نے کچھ زرعی زمین خریدی، جو انہوں نے ہم دو بھائیوں کے نام رجسٹر کروا دی تھی ۔ کیونکہ ہمارے والد صاحب کے پاس اس کے علاوہ بھی مختلف علاقوں میں بہت سا زرعی رقبہ اورمختلف قسم کے کاروبار بھی تھے۔ والد صاحب کی وفات کے بعد ہم تینوں بھائیوں نے وراثت تقسیم نہیں کی اور بہت لمبے عرصے تک (تقریباً 27سال) اکٹھے ہی سارا کاروبار کرتے رہے ساری زرعی زمینوں کو زیادہ تر بڑے بھائی ہی دیکھتے تھے۔ 2009 میں آپس پہلی تقسیم ہوئی جس میں چھوٹا بھائی الگ ہو گیا۔ میں اور میرا بڑا بھائی اکٹھے رہے۔ اس وقت چھوٹے بھائی اور ہمارے درمیان ایک معاہدے کے تحت تمام جائیداد اور کاروبار تقسیم ہو گئے تھے۔اس معاہدے کے مطابق ہم نے زمین اور کاروبار ان کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد بڑے بھائی نے اوپر ذکر کی گئی زمین فروخت کر دی اور کچھ رقم لے کر جو زمین ان کے نام تھی، وہ 2014 میں رجسٹری کروا دی۔ باقی زمین جو میرے حصّے کی تھی اس پارٹی نے اس کی رقم ادا نہیں کی۔اسی دوران میری اور بڑے بھائی کی بھی علیحدگی ہو گئی۔ 2019 میں اس پارٹی نے مجھ سے رابطہ کیا اور رجسٹری کا مطالبہ کیا۔ اور اس دوران اس پارٹی نے وہاں پر ایک ٹاؤن بنا لیا ۔میں نے ان سے عرض کی کہ مجھے میری رقم ادا کرو اور مجھ سے رجسٹری لے لو۔ ہماری آپس کی رضا مندی سے نئی قیمت طے ہو گئی اور میں نے اس رقبے کی رجسٹری ان کے حوالہ کر دی۔ اب چھوٹا بھائی مجھ سے مطالبہ کر رہا ہے کہ اس زمین میں میرا بھی حصہ ہے لہذا مجھے میرے حصّے کی رقم ادا کرو۔
1: جو زمین والد صاحب نے میرے نام خریدی تھی؟ کیا چھوٹے بھائی کا اس میں حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
2: ہمارے درمیان 2009 میں علیحدگی ہوئی تھی، اس کے بعد سے لیکر تقریباً ایک سال پہلے تک اس زمین میں سے اس نے کبھی بھی حصہ کا مطالبہ نہیں کیا ۔ اب زمین کچھ مہنگی فروخت ہونے کی وجہ سےاس نے حصہ کا مطالبہ کر دیا، کیا اس کا حصہ مانگنا جائز ہے؟
3: اگر شرعی اعتبار سے ان کا حصہ بنتا ہے تو اس کی تقسیم کس طرح ہو گی؟ بڑے بھائی کی اور میری زمین دونوں میں سے حصہ دیا جائے گا؟
تنقیح :سائل نے بتایا کہ رجسٹری کے بعد بھی پیداوار بھائیوں اور ابو میں تقسیم ہوتی تھی،زمین ابو ہی کی ملکیت میں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلی بات:میراث کی تقسیم کے حوالے سے بہتر یہ ہے کہ انتقال کے بعد جتنی جلد ہوسکے مرحوم کا مال اس کے ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کردیا جائے،تاکہ ہر وارث کو اس کا شرعی حق مل جائے اور ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی کا اندیشہ نہ رہے،البتہ اگر کسی معقول عذر کی وجہ سےتمام ورثہ باہمی رضامندی سے تقسیم کو مؤخر کرنا چاہتے ہوں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں،بشرطیکہ تمام ورثہ عاقل بالغ ہوں۔
دوسری بات:محض رجسٹری شرعا ملکیت کیلئے کافی نہیں ہے ،بلکہ رجسٹری کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ رجسٹر کرتے وقت وہ جائیداد مکمل طور پر مذکورہ اشخاص کے قبضے میں ہو اور گفٹ کرنے والے کا اس میں بالکل عمل دخل نہ ہو،لیکن اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو وہ دونوں جائیدادیں بدستور اصل مالک کی ملکیت شمار ہوں گی اور ان کے ورثہ کو ان میں بقدر حصص شرعیہ حصہ ملے گا۔
-1چونکہ والد صاحب نے صرف رجسٹری کروائی تھی،تمام مالکانہ حقوق نہیں دئیےتھے ،لہٰذا اس زمین میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا۔
-2جی ،ان کا مطالبہ درست ہے ۔
-3سائل نے فون پر بتایا کہ ورثہ میں صرف تین بیٹے ہیں ،باقی کوئی شرعی وارث نہیں ۔اگر واقعتاً یہی تین بیٹے ہو تو کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) تینوں بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگی۔
حوالہ جات
(النساء : ١٢):
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ .....
الفتاوى العالمكيرية : (4/377):
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغاء هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
16 /ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


