03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یکطرفہ خلع کے بعد دوسری جگہ نکاح
85651طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

اس خاتون نے غیر مسلم عدالت سے  یک طرفہ خلع لینے کے بعد دوسری جگہ شادی کرلی ہے،کیا یہ نکاح

درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یکطرفہ خلع سے نکاح ختم نہیں ہوتا،جیساکہ سوال نمبر ایک میں گزر چکا ہے،نیز غیرمسلم ملک کی عدالت کے غیر مسلم جج کا فیصلہ مسلمان کے خلاف معتبر نہیں ہے،اس لیے صورت مسئولہ میں  پہلا نکاح ختم نہیں ہوا ہے،لہذا دوسری جگہ شادی کرنا جائز نہیں ہے اور یہ دوسرا نکاح باطل ہے۔

حوالہ جات

وفی الھندیۃ (6/496):

لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره  وكذلك المعتدة ، كذا في السراج الوهاج .

وفی الھندیۃ (3/132):

أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

22/ جمادی الاولی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب