| 85650 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
کسی مسلمان کے خلاف نکاح وغیرہ کے شرعی معاملات میں انگریزی عدالت کا فیصلہ معتبر ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
غیرمسلموں کی عدالت میں خلع کامقدمہ دائر کرنے کے نتیجے میں غیرمسلم جج کا خلع کافیصلہ دینا معتبر نہیں ہے؛ اس لیےکہ غیرمسلم جج کو مسلمان کے بارے میں خلع یا فسخِ نکاح کااختیار نہیں ہے۔
حیلۂ ناجزہ میں ہے:
"لیکن اگرکسی جگہ فیصلہ کنندہ حاکم غیر مسلم ہوتواس کافیصلہ بالکل غیر معتبر ہےاس کے حکم سے فسخ وغیرہ ہر گز نہیں ہوسکتا، (لأن الكافرليس بأهل للقضاء على المسلم كماهومصرح في جميع كتب الفقه.)حتٰی کہ اگررودادِ مقدمہ غیرمسلم مرتب کرےاورمسلمان حاکم فیصلہ کرے یابالعکس تب بھی فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔"
(الحیلۃ الناجزۃ،ص: 31)
"وہ حکام جج وغیرہ جوگورنمنٹ کی طرف سے اس قسم کے معاملات میں فیصلہ کااختیار رکھتے ہیں اگر وہ مسلمان ہوں اور شرعی قاعدہ کے موافق فیصلہ کریں تو اُن کاحکم بھی قضائے قاضی کے قائم مقام ہوجاتاہے اور اگر مسلمان نہ ہوں تواُن کا فیصلہ کالعدم ہےحتٰی کہ اگر کئی ججوں یاممبروں کی کمیٹی فیصلہ کرے تو اُن سب کامسلمان ہوناشرط ہے اگر ایک جج یاممبر وغیرہ بھی غیرمسلم ہو توشرعًا فیصلہ معتبر نہیں۔(الحیلۃ الناجزۃ، ص: 171)
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
22/ جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


