| 86208 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیج اور چنے وغیرہ پکانے کی بھٹی ہے، ایک شخص سے میں نے 20000 روپے لے کر، بھٹی میں شریک کیا اور باقی سرمایہ میرا ہے، نفع اور نقصان آدھا آدھا ہے، وہ بھٹی میں کام کرتا ہے اور میں مارکیٹ سے بیج، چنا وغیرہ خرید کر دیتا ہوں اور میرا بیج، چنے کا کام اور بھی ہے، میں کبھی دوسرے کاروبار کے لیے رکھے ہوئے بیج، چنے میں سے بھی دیتا ہوں۔ تو اب میرے لیے دوسرے کاروبار کی نیت سے خریدا ہوا بیج، چنا وغیرہ، اپنی بھٹی میں شریک کے اوپر بیچنا جائز یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو میرے لیے اس پر نفع لینے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے مذکورہ شراکت میں ہر شریک دوسرے کا وکیل ہے۔لہذا مذکورہ صورت میں جب آپ کو مارکیٹ سے مال خریدنے کا وکیل بنا یا ہے تو آپ اپنا مال (چنا وغیرہ) اپنے ہی مشترکہ بھٹی والے شریک کو نفع کےساتھ فروخت نہیں کرسکتے۔ چاہے وہ آپ نے مشترکہ پیسوں سے خریدے ہوں یا اپنی رقم سے خریدے ہوں، بہرحال اسی قیمت پربھٹی میں دیں ۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية : يتضمن كل قسم من شركة العقد الوكالة ، وذلك أن كل واحد من الشركاء وكيل للآخر في تصرفه يعني في البيع والشراء وفي تقبل العمل من الغير بالأجرة فلذلك كما أن العقل والتمييزشرط في الوكالة .(مجلة الأحكام العدلية ،ص:255)
في شرح المجلة : لو باع الوكيل بالشراء ماله لموكله لا يصح.سواء کان خیرا أو شرا (خانیۃ ).لأنہ لایصح للواحد أن یتولی طرفي العقد ولا یجوز أیضا للوکیل بالشراء أن یشتري ممن ترد شہادتہ لہ ...وشریکہ فیما یشترکان بہ للتھمۃ إلا إذا أطلق لہ الموکل .( شرح المجلة،ص:626)
في الفتاوی الھندیۃ :فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا، وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما، كذا في محيط السرخسي. (الفتاوی الھندیہ:2 /320(
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی :كأحد الشريكين إذا استربح من مال مشترك لنفسه فقط ويكون ربح نصيبها كسبا خبيثا. ) العقود الدریۃ :1/ 93)
في مجلة الأحكام العدلية: أما إذا اشترى أحدهما مالا من جنس تجارتهم حال كون رأس مال الشركة في يده ،فيكون للشركة حتى لو اشتراه بمال نفسه ،مثلا إذا عقد اثنان الشركة على تجارة الأقمشة فاشترى أحدهما بماله حصانا كان له، وليس لشريكه حصة في ذلك الحصان ،أما إذا اشترى قماشا فيكون للشركة حتى أنه لو أشهد حين شراء القماش بقوله: إنني أشتري هذا القماش لنفسي، وليس لشريكي حصة فيه فلا يفيد ذلك ،ويكون ذلك القماش مشتركا بينه وبين شريكه. (مجلة الأحكام العدلية ،ص: 265)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی: (ويرجع على شريكه بحصته منه إن أدى من مال نفسه) أي مع بقاء مال الشركة ،وإلا فالشراء له خاصة لئلا يصير مستدينا على مال الشركة بلا إذن بحر.
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی :قوله:(ويرجع إلى شريكه بحصته منه) أي بحصة شريكه من الثمن؛ لأن المشتري وكيل عنه في حصته، فيرجع عليه بحسابه إن أدى من مال نفسه، وإن من مال الشركة لم يرجع، وإن كان شراؤه لا يعرف إلا بقوله فعليه الحجة.( رد المحتار: 4/ 314)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
5 رجب المرجب،1446
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


