| 85883 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
پچھلے سال دسمبر 2023 میں والد صاحب کا انتقال ہوا۔ والد صاحب کے ورثاء میں 6 بھائی اور ایک والدہ ہیں۔ والد صاحب نے ترکہ پر ایک گھر چھوڑا ہے جس میں تین بھائی اور والدہ رہتی ہیں اور باقی تین بھائی اپنے کرایہ کے گھروں میں رہتے ہیں۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد گھر کو فروخت کرنے کے لئے ایک رقم مقرر کی گئی اور بروکرز مختلف خریدار لے کر آئے، لیکن بات نہیں بن سکی۔ اس دوران بھائیوں نے باہمی مشورے سے ایک معاہدہ ترتیب دیا کہ جس عرصہ تک گھر نہیں بکتا، اس وقت تک تین بھائی جو گھر میں رہائش پذیر ہیں ان کا کرایہ جمع ہوتا رہیگا اور مکان بکنے کے بعد وہ کرایہ کی رقم ان کے حصہ میں سے نکال کر باہر رہنے والے تین بھائیوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ مکان ابھی تک برائے فروخت ہے، اس دوران مکان کی قیمت بھی تقریباً بارہ فیصد گرائی گئی،لیکن وہ اب تک نہیں بکا۔ بڑے بھائی اب تک بکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سال گزرنے کو ہے۔ اب باہر رہنے والے بھائی حضرات کا یہ مطالبہ ہے کہ گھر میں رہائش پزیر برادران پچھلے 11 ماہ کا اکھٹا کرایہ جمع کروائیں اور اگلے ماہ سے ماہانہ کرایہ دینا شروع کریں۔
1۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان کا یہ مطالبہ ٹھیک ہے؟
2۔دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اس طرح ادا کرنے کی سکت نہ رکھتا ہو اور یہ کہے کہ چونکہ معاہدہ اس بات سے مشروط تھا کہ رقم بعد میں کاٹی جائےگی جبھی انہوں نے اس پر دستخط کئے تھے، لہذا ان کو مکان کے بکنے پر اور بعد میں رقم مائنس کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تو کیا وہ ایسا کرسکتا ہے
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بھائیوں نے جس وقت معاہدہ کیا تھا اس میں کرایہ کی ادائیگی کا وقت معلوم نہیں ہے، اس لیے کہ مکان بیچنے پر ادائیگی کو موقوف کیا ہے،حالانکہ یہ معلوم نہیں ہے کہ مکان کب بکے گا، اس وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہوگیا،لہذا آیندہ کے لیے نیا معاہدہ کیاجائے جس میں کرایہ کی ادائیگی کا وقت ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پر طے ہو۔ جو مدت گذر گئی ہے اس کے لیے اجرت مثل کے مطابق کرایہ وصول کیا جائے،اجرت مثل کا مطلب یہ ہے کہ اس جیسے گھر کا علاقہ میں لوگوں کےدرمیان جو کرایہ طے سمجھا جاتا ہو،وہی ادا کیا جائے۔
حوالہ جات
وفی الهندية (4/409):
’’(وأما) (ركنها) فالإيجاب والقبول بالألفاظ الموضوعة في عقد الإجارة.‘‘
’’ وفی الهندية (4/448):
وأجمعوا أنه لو آجر من شريكه يجوز سواء كان مشاعا يحتمل القسمة أو لا يحتمل وسواء آجر كل نصيبه منه أو بعضه كذا في الخلاصة.‘‘
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
12/ جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


