| 87616 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرے بھائی کا نام توقیر احمد اور بھابھی کا نام فریال توقیر ہے۔ اس کے دو بچے ہیں جبکہ بیوی ابھی حاملہ ہے۔ وہ ایک ایسے ذہنی و نفسیاتی دباؤ، غصے اور بے قابو کیفیت میں مبتلا تھا کہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہہ دیے، حالانکہ اس وقت بقول میرے بھائی کے طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ اسے اندازہ تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس کی کیفیت اور حالات درج ذیل تھے:
میرا بھائی طویل عرصے سے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہے، اس کی شخصیت پر بچپن سے ہی ہمارے والد کی سختی اور پرتشدد رویے نے گہرا اثر ڈالا ہے جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری اور شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا رہتا ہے ان دنوں والدہ اور بھابھی کے تنازعات اور بہت زیادہ قرضدار ہونے کی وجہ سے بھی شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا رہتا ہے اور اسے شدید وسوسے بے چینی اور غصے کے غیر معمولی دورے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے خود پر قابو کھو دیتا ہے۔ ماضی میں کئی بار اس نے اپنے کئی موبائل فون اور ایک کمپیوٹر توڑ ڈالا ، دو بارہ اپنی بیوی پر اس حد تک تشدّد کیا کہ اسے دیوار اور زمین پر پٹخااور بعد میں افسوس کیا، اپنی چوٹی بہن کو جان سے مارنے کی کوشش میں اس کا گلا دبایا جسے پھر ہسپتال لے جانا پڑا ،ایک بار چھرا نکال کر گلیوں میں میرے پیچھے بھاگتا رہا ،ایک بار فیملی کے ساتھ گاڑی چلاتے ہوئے غصے میں موٹرسائیکل سواروں کو گاڑی سے ٹکر مار کر مین ہائی وے پر گرا دیا اور ایک بار شدید غصے میں اپنے دوست پر گاڑی چڑھانے کی نیت سے فٹ پاتھ پر چڑھا ڈالی۔ اس کے علاوہ بھی وہ غصے میں بہت ایسے کام کیے جو اس کے اور دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بنے۔
رمضان المبارک کے دوران 18 مارچ 2025 کو ایک واقعہ پیش آیا، وہ روزے کی حالت میں تھا، جب وہ گھر آیا تو محلے کی ایک خاتون نے ہمارے والد کی وجہ سے اسے ڈانٹ دیا جیسے کے میں پہلے بتا چکا ہوں کہ والد کے پُرتشدّد رویے کے باعث وہ ان سے صرف ضرورت کی بات کرتا ہے۔ اس دن حالت روزہ میں اس عورت کی وہ باتیں اسے انتہائی ناگوار گزریں ،وہ پہلے سے کسی ذہنی دباؤ میں تھا اور غصے سے اس کی طبیعت بگڑنا شروع ہو گئی، اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا اور غصے میں ہمیشہ یہی کیفیت ہوتی ہے، وہ شدید غصے کی حالت میں گھر سے باہر نکل گیا، اس کے پیچھے وہ خاتون اور والدہ بھی آئی کہ کہیں کچھ کر نہ لے اور اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی لیکن غصہ اتنا شدید تھا کہ اس نے باہر گلی میں ہی امی اور اس خاتون سے اونچی آواز میں لڑنا شروع کر دیا۔ جس کے بعد وہ گھر کی طرف دوڑا اور گھر میں داخل ہوا، اسی طیش اور بے قابو کیفیت میں جب وہ گھر میں داخل ہوا تو میری بھابی اس وقت سیڑھی کے ذریعے چھت سے اتر رہی تھی جسے اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اور نفع نقصان کے پشتو زبان میں شدید غصے کے عالم میں کہا کہ:
"زہ تالہ دغہ و خت کی طلاق راکوم "
"کہ میں تمھیں اسی وقت طلاق دیتا ہوں" (ایسا تین بار کہا)۔
بقول میرے بھائی کے یہ الفاظ اس کے منہ سے کیسے نکلے؟ اسے نہیں معلوم کہ اس نے یہ الفاظ کیوں کہے اور کیسے کہے، وہ مکمل طور پر خود پر کنٹرول کھو چکا تھا۔ بقول میرے بھائی کے اس کا اس وقت طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ شدید غصے اور غیر مستحکم کیفیت میں تھا وہ اس وقت اتنے شدید غصے میں تھا کہ اسے نفع و نقصان کا اندازہ نہیں تھا۔ اس وقت اسے اپنے قول و فعل پر بالکل بھی اختیار نہیں تھا۔ اور نہ ہی بیک وقت تین طلاقیں دینے کے انجام اور شرعی احکام کا علم تھا۔ اس کا اپنی بیوی سے گھر پہنچنے پر نہ کوئی جھگڑا ہوا تھا اور نہ ہی کوئی بات چیت، بلکہ انکا سامنا بھی نہیں ہوا تھا کیونکہ جب وہ گھر آیا تو میری بھابی اس وقت چھت پر تھی۔
ابھی یہ واقعہ پیش آئے کوئی پونہ گھنٹہ گزرا تھا کہ ہمارا ایک رشتہ دار واجد آیا ، جس کے ساتھ ہمارے برادری کے مسائل چل رہے ہیں ، یعنی وہ ہماری خوشی بہر صورت برداشت نہیں کر سکتا ، اس نے میرے بھائی سے پوچھا کہ آپ نے طلاق ہوش و حواس میں دی ہے ؟ بقول میرے بھائی کے کہ اس نے غصے کی حالت میں اور اس رشتہ دار یعنی واجد نامی آدمی کی خوشی پر پانی پھیرنے کیلئے کہہ دیا کہ "جی ، میں نے طلاق ہوش و حواس" میں دی ہے ۔ اس کو یہ جواب بھی غصے کی حالت میں اور ضد کی بنا پر دیا، یعنی ہوش و حواس میں طلاق دینے کا جھوٹا اقرار کیا، حالانکہ طلاق ہوش و حواس میں نہیں دی تھی۔
اگر غصے کی مذکورہ کیفیت میں طلاق واقع نہیں ہوئی تو کیا طلاق کے اس جھوٹے اقرار سے طلاق واقع ہوجائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق کا اقرار اگر چہ جھوٹا ہو، اُس سے قضاءً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ قضاءً کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ معاملہ قاضی کے پاس جائے ،تو وہ اس میں طلاق کے وقوع کا فیصلہ کرےگا۔
لہٰذا مسئولہ صورت میں تین طلاقوں کے جھوٹے اقرار سے دیانتاً (فیما بینہ و بین اللہ ) تو طلاق واقع نہیں ہوئی لیکن اگر زوجین میں سے کوئی ایک یہ معاملہ قاضی کے پاس (عدالت) لے جائے، اس سے قضاءً تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی ، رجوع کا حق حاصل نہیں ہوگا اور موجودہ حالت میں باہم عقد نکاح بھی ممکن نہیں ہوگا ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد کسی بھی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔نیز عورت قضاء کی مکلّف ہے،اگر اس کو شوہر کے اقرار کا باوثوق ذرائع سے پتہ ہےتو اس کیلئے شوہر کو اپنے اوپر قدرت دینا جائز نہیں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 236):
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ.
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول۔
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين .
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
26 /ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


