03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“دے چکاہوں ” کہنے سے طلاق کا حکم
87513طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

 میرے اور میرے شوہر کے درمیان جھگڑا ہوا۔ میں نے ان سے اپنی ایک پریشانی کا ذکر کیا ،جس پر وہ بہت غصے میں آ گئے،جھگڑے کے دوران انہوں نے تین بار کہا: میں دے چکا ہوں، دے چکا ہوں، دے چکا ہوں، اب تم جا سکتی ہو، میں طلاق دے چکا ہوں۔میں اس وقت  خاموش رہی، تھوڑی دیر بعد میں نے ان سے پوچھا کہ ان الفاظ سے ان کی نیت کیا تھی؟ کیا واقعی انہوں نے طلاق دی ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ: نیت نہیں تھی، میں نے واضح طور پر نہیں کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، جب طلاق دینی ہوتی ہے تو صاف الفاظ میں دی جاتی ہے، غصے میں الفاظ نکل گئے،لیکن میرے حساب سے طلاق نہیں ہوئی۔اب میں بہت پریشان ہوں اور یہ جاننا چاہتی ہوں کہ شریعت کی رو سے کیا اس صورتحال میں طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟ براہ کرم  شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  صورت مسئولہ میں شوہر کے الفاظ " میں طلاق دے چکا ہوں " سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی، اس کے علاوہ کے الفاظ تاکید کےلئے ہیں۔

ایک طلاقِ رجعی کے بعد عدت یعنی تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے رجوع کیاجاسکتاہے،اگر مرد اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہے تو زبان سے کہہ دے کہ میں نے رجوع کرلیا،اس سے قولی طور پر رجوع ہوجائے گااور اگر زبان سے کچھ نہ کہے ،بلکہ بیوی سے تعلق قائم کرلے ،اس سے بھی رجوع ہوجائے گا، تاہم رجوع کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ شوہر شرعی گواہان کے سامنے زبان سے یوں کہہ دے کہ ’’میں نے رجوع کیا‘‘ تو اس سے رجوع ہوجائے گااور آئندہ  شوہر  کے پاس دو طلاقوں کا اختیار  ہوگا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 226):

كتاب الطلاق (هو رفع قيد النكاح في الحال أو المآل بلفظ مخصوص)

(قوله ‌وركنه ‌لفظ ‌مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية(3/ 230)

‌والقرينة(اي: قرینۃ الطلاق) ‌لا ‌بد أن تتقدم كما يعلم مما مر في اعتدي ثلاثا فالأوجه ما في شرح الجامع.(3/ 314)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 101):

فالألفاظ التي يقع بها الطلاق في الشرع نوعان: صريح وكناية أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح....سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع ...وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 470):

وإذا ‌طلق ‌الرجل ‌امرأته ‌تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية۔۔۔وهي –الرجعة- على ضربين: سني، وبدعي، فالسني أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك۔

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

17/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب