| 87596 | طلاق کے احکام | ظہار )بیوی کو ماں یا بہن کے ساتھ تشبیہ دینے( کے احکام |
سوال
اگر شوہر اپنی بیوی سے درج ذیل جملے کہے:
-1میری ماں یہ بات ایسی ہے۔
-2تم سے ڈرتا نہیں، تم میری ماں ہو کیا؟اور بیوی جواب دے کہ ہاں! ماں ہو ں۔
-3تم میری ماں ہو۔
-4تم میری ماں بن چکی ہو۔
-5تم میری ماں بنی ہوئی ہو۔
پھر کچھ عرصے بعد بیوی نے یاد دلایا کہ آپ نے مجھے کہا تھا:تم میری ماں بنی ہوئی ہو۔
تو شوہر نے جواب دیا: ہاں، واقعی ماں بنی ہوئی ہو، زبان چلاتی ہو۔
ان تمام صورتوں میں کیا بیوی شوہر پر حرام ہو جائے گی؟کیا کفارہ واجب ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص بیوی کو ماں کی طرح محترم قرار دینے کی نیت سے یا بغیر نیت کے بیوی کو ماں کہے اور تشبیہ کا لفظ بھی استعمال نہ کیا ہوتو اس کے کہنے سے نہ طلاق ہوگی اور نہ ہی ظہار ہوگا۔البتہ بیوی کو ماں کہنا شریعت کی رو سے درست نہیں ہے، فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اپنی بیوی کو ماں، بہن یا بیٹی کہنا مکروہ ہے۔
سوال میں مذکورہ جملوں میں چوں کہ حرمت میں ماں سے تشبیہ دینا نہیں پایا جارہا، بلکہ برتری اور حیثیت میں بیوی کو ماں کہا ہے، اس لیے ان الفاظ سے نہ ظہار ہوگا اور نہ ہی طلاق،اور جب ظہار نہیں تو کفارہ بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا زوجین کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔البتہ مذکورہ جملے کہنا مکروہ ہے، آئندہ ایسے جملے کہنے سے اجتناب کریں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (3/ 470):
(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه (وبأنت علي حرام كأمي صح ما نواه من ظهار، أو طلاق) وتمنع إرادة الكرامة لزيادة لفظ التحريم، وإن لم ينوثبت الأدنى وهو الظهار في الأصح (وبأنت علي) حرام (كظهر أمي ثبت الظهار لا غير) لأنه صريح(قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقال هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ " يا أخية " استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله أن يقول لها يا بنتي، أو يا أختي ونحوه.
الفتاوى الهندية(1/507):
لو قال لها: "أنت أمي" لا يكون مظاهرا ،وينبغي أن يكون مكروها ،ومثله أن يقول: يا ابنتي وياأختي ونحوه.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
23/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


