| 86990 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
عرض یہ ہےکہ سندھ ٹیکسٹ بک کے تحت پورے سندھ میں میٹرک کے طلباء کو پڑھائی جانے والی کتاب مطالعہٴ پاکستان کے صفحہ نمبر "44"(کتاب کے متعلقہ صفحات ساتھ منسلک ہیں) باب نمبر " 3" کےعنوان آئین 1973ء کے نمایاں خدوخال کی تیسری شق میں درج مسلمان کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے" ایسا شخص مسلمان ہے جو اللہ تعالی اور رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم کو اللہ کے آخری نبی ہونے پر کامل ایمان رکھتا ہو " بلاشبہ یہ جملہ آئینِ پاکستان کا حصہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ پاکستانی معاشرے کے تناظر میں درست ہے؟ جبکہ قادیانی اور ان کا لاہوری گروہ ختمِ نبوت کے عقیدہ میں تاویل کرتا ہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں اور ساتھ ظلی اور بروزی نبوت کو جاری مانتے ہیں۔ ایسی صورت میں سادہ لوح طلباء کو غلط فہمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سندھ میں میٹرک کے طلباء کو پڑھائی جانے والی کتاب کے متعلقہ صفحات کا مطالعہ کیا گیا، اس میں واقعتاً مسلمان کی تعریف 1973ء کے آئین کے مطابق کی گئی ہے، جس کے الفاظ درج ذیل ہیں:
"ایسا شخص مسلمان ہے جو اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے آخری نبی ہونے پر کامل ایمان رکھتا ہو"۔
جبکہ قادیانیوں کے دونوں گروپ ختم نبوت کا بالکلیہ انکار نہیں کرتے، بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے کے ساتھ ساتھ تاویل کر کے ظلی اور بروزی نبوت کو بھی جاری مانتے ہیں، کیونکہ قادیانیوں کے نزدیک نبوت کی تین قسمیں ہیں، چنانچہ مرزا قادیانی کا بیٹا بشیر الدین محمود ان کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے:
میں نبیوں کی تین قسمیں مانتا ہوں: ایک وہ جو شریعت لاتے ہیں۔ دوسری وہ جو شریعت تو نہیں لاتے، لیکن ان کو بلاواسطہ نبوت ملتی ہے اور وہ پہلی امت کا کام کرتے ہیں، جیسے سلیمان ، زکریا اور یحی علیہم السلام۔ اور ایک وہ جو نہ شریعت لاتے ہیں اور نہ ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے، لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی بنتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ اس کی اتباع میں ہی انسان نبی بن جائے۔
(القول الفصل: ص:14، انوار العلوم ص 276،277)
اسی طرح ایک جگہ مرزا قادیانی کا دوسرا بیٹا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:
آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہو چکی ہے: اول تشریعی۔۔۔۔۔ایسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت سے پکارا ہے، دوم وہ نبوت جس کے لیے تشریعی یعنی حقیقی ہونا ضروری نہیں۔۔۔۔۔ایسی نبوت حضرت مسیح موعود کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے، تیسری قسم کی نبوت ظلی نبوت ہے۔۔۔۔۔۔۔مگر آپ کی آمد کی برکت سے مستقل اور حقیقی نبوت کا دروازہ بند ہو گیا اور ظلی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔
(كلمة الفصل، ص:112،113 از مرزا بشير احمد ايم اے)
لہذاقادیانیوں کے نزدیک آخری نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تشریعی نبوت ختم ہو گئی ، اب کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو نئی شریعت لائے، البتہ غیرتشریعی نبوت کا دروازہ کھلا ہے، اس کی تائید کے لیے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی مثال پیش کرتے ہیں کہ وہ اس امت میں تشریف لائیں گے، مگر تشریعی نبی نہیں ہوں گے، بلکہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوة والسلام کے مطابق عمل کریں گے اور اسی کی تبلیغ کریں گے۔
لہذا سوال میں ذکر کی گئی بات درست ہے کہ میٹرک کی اس کتاب میں 1973ء کے آئین میں موجود مسلمان کی تعریف کے ساتھ وہ وضاحت بھی درج ہونی چاہیے جو بعد میں 7 ستمبر1974ء کوخاص قادیانیوں کی وجہ سے مسلم اور غیرمسلم کی تعریف میں ترمیم کرتے ہوئےکی گئی اور قادیانیوں کو واضح الفاظ میں غیر مسلم قرار دیا گیا، جس کی عبارت درج ذیل ہے:
(الف) "مسلم" سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادرِ مطلق اللہ تبارک وتعالی ،خاتم النبیین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشر و ط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبریا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو، نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعوی کرے۔
(ب)" غیر مسلم" سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی ، ہندو سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ، قادیانی گروپ یالا ہوری گروپ کا ( جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں ) کوئی شخص یا کوئی بہائی اور جدولی ذاتوں میں سے کسی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔][1] (آئین پاکستان، ترمیم شدہ، آرٹیکل:260، مطبوعہ: 7جنوری2015ء)
(a) "Muslim" means a person who believes in the unity and oneness of Almighty Allah, in the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him), the last of the prophets, and does not believe in, or recognize as a prophet or religious reformer, any person who claimed or claims to be a prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever, after Muhammad (peace be upon him) ;
and
(b) "non-Muslim" means a person who is not a Muslim and includes a person belonging to the Christian, Hindu, Sikh, Budhist or Parsi community, a person of the Quadiani group or the Lahori group (who call themselves 'Ahmadis' or by any other name), or a Bahai, and a person belonging to any of the scheduledcastes.] (constitution of Pakistan, Article:260)
حوالہ جات
الفصل في الملل والأهواء والنحل لأبي محمد علي بن أحمد ابن حزم الظاهري(3/142) مكتبة الخانجي، القاهرة:
وصح الإجماع على أن كل من جحد شيئا صح عندنا بالإجماع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى به فقد كفر وصح بالنص أن كل من استهزأ بالله تعالى أو بملك من الملائكة أو بنبي من الأنبياء عليهم السلام أو بآية من القرآن أو بفريضة من فرائض الدين فهي كلها آيات الله تعالى بعد بلوغ الحجة إليه فهو كافر ومن قال بنبي بعد النبي عليه الصلاة والسلام أو جحد شيئا صح عنده بأن النبي صلى الله عليه وسلم قاله فهو كافر.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
16/شوال المکرم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


