| 85860 | نکاح کا بیان | نکاح صحیح اور فاسد کا بیان |
سوال
بعداز سلام گزارش ہے کہ علماء اکرم درج ذیل سوال کا جواب شریعت محمدی ﷺ کے مطابق دے کر راہنمائی فرمائیں۔
اس سوال میں پانچ لوگوں کا تذکرہ ہے:
1۔حبیب اللہ (عبدالرحمن کاوالد)
2۔عبدالرحمن(حبیب اللہ کا بیٹا،دلہا،اصغر متوفی کا داماد)
3۔محمد اصغرمتوفی
4۔محمد اصغر کی بیوہ
5۔عائمہ (محمد اصغر کی بیٹی جس کا نکاح بچپن میں والدین نے عبدالرحمن ولد حبیب کے ساتھ کر دیا تھا)
سوال:محمداصغرنے اپنی بیٹی مسماۃ عائمہ کا نکاح اس کے بچپن میں حبیب اللہ کے بیٹے عبدالرحمن کے ساتھ گواہان کے سامنے کردیاتھا،کچھ عرصہ بعد محمد اصغر فوت ہوگیا،مسماۃ منڑ مائی،بیوہ محمد اصغر کی عدت گزرنے کے بعد حبیب اللہ نے منڑ مائی کو ورغلا کر اس سے نکاح کر لیا،اس دوران منڑ مائی کی بیٹی عائمہ (دختر محمد اصغر)جوان ہو گئی،جب اسے بچپن کے نکاح کے بار ے میں بتایاگیاجو کہ اس کے والد مرحوم نے حبیب اللہ کے بیٹے عبدالرحمن سے کردیا تھا توعائمہ بی بی نے نکاح ماننے سے انکار کردیا اور بات طلاق تک پہنچ گئی،مگرعبدالرحمن نے طلاق دینے سے انکار کردیا۔
جس کے بعد مسماۃ عائمہ دخترمحمد اصغر،(مسماۃ منڑمائی کی بیٹی)نےرخصتی سے پہلے عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کیا،عدالت نے عبدالرحمن ولد حبیب اللہ کو نوٹس جاری کیا،مگر عبدالرحمن عدالت میں پیش نہ ہوا،متعدد بار نوٹس جاری کرنے کے بعد جب عبدالرحمن عدالت میں پیش نہ ہواتوعدالت نے تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر دی(عدالت نے طلاق واقع قرار دی، عبدالرحمن ولد حبیب اللہ کی غیر موجودگی میں اس کے طلاق نہ دینے کے باوجود عدالت نے عدم پیروی کی بنیاد پرطلاق واقع قرار دی)جس کے بعد عائمہ بی بی نے کسی اور سے نکاح کرلیا۔
علماء سے رائے درکارہے کہ کیا عبدالرحمن اور عائمہ بی بی کی طلاق ہو چکی ہے؟اگر طلاق نہیں ہوئی تو اس عدالتی فیصلے کے بعد ہونے والے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
تنقیح: سائل نے وضاحت کی ہے کہ جس لڑکے سے بچی کا نکاح کیا گیا تھا وہ لڑکی کے برابر کا ہے اور بلوغت کے فوراً بعد لڑکی نے نکاح سے انکار نہیں کیا،بلکہ بلکہ بلوغت کے بعد بھی لڑکے کے گھر والوں جانب سے عید وغیرہ کے موقع پر تحفے تحائف بھیجے جاتے رہے،جسے وہ قبول کرتی رہی،بعد میں جب لڑکی کے والد کی وفات کے بعد لڑکے کے والد نے اس کی والدہ سے نکاح کیا،چونکہ لڑکی کے خاندان والے اس نکاح پر راضی نہیں تھے تو انہوں نے لڑکی کو اس رشتے کے خلاف اکسایا،جو اس کے والد نے طے کیا تھا،جس کے نتیجے میں لڑکی نے یہ اقدام کیا اور عدالتی کاروائی میں دوسرا نکاح کرنے والے لڑکے کے گھر والوں نے تعاون کیا۔
نیز دوسرے نکاح کے بعد رخصتی ہوچکی ہے، ازدواجی تعلقات بھی قائم ہوچکے ہیں اور اس شخص کو اس لڑکی کے پہلے رشتے کا علم تھا،اسی وجہ سے اس کے گھر والوں نے پہلے عدالت کے ذریعے اس کے سابقہ نکاح کو ختم کروایا،پھر اس فیصلے کو معتبر سمجھ اس سے نکاح کرلیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نے والد کو اپنی نابالغ اولاد کے نکاح کا اختیار دیا ہے،اس لئے مذکورہ صورت میں عائمہ بی بی کا حبیب کے ساتھ کروایا گیا نکاح منعقد ہوگیا تھا اور نکاح منعقد ہونے کے بعد جب تک شوہر طلاق نہ دے دے یا فسخ نکاح کی کسی شرعا معتبر اور معقول وجہ کی بنیاد پر قاضی نکاح فسخ نہ کردے،یا شوہر فوت نہ ہوجائے، نکاح برقرار رہتا ہے اور ایک شخص کے نکاح میں ہوتے ہوئے لڑکی کا کسی دوسرے شخص سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
چونکہ مذکورہ صورت میں شوہر نے طلاق نہیں دی اور فسخ نکاح کی بھی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے،جس کی وجہ سے عدالتی فیصلے کو شرعا معتبر قرار دیا جاسکے،اس لئے عائمہ بی بی کا نکاح بدستور عبدالرحمن کے ساتھ برقرار ہے اور جب تک یہ نکاح برقرار ہے اس کا کسی اور سے نکاح نہیں ہوسکتا،لہذا عائمہ بی بی کا دوسرا نکاح فاسد ہواہے،جس کی وجہ سے ان دونوں کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا جائز نہیں اوران کے ذمے لازم ہےکہ دونوں میں سے کوئی ایک زبانی طور پر کہہ دے کہ اس نے اسے چھوڑدیا ہے،یا وہ اس کے ساتھ نہیں رہے گا/گی اوربہتر یہ ہے کہ اس کی اطلاع دوسرے کو بھجوادے اور فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں اور اب تک بغیر نکاح کے ساتھ رہنے پر سچے دل سے ندامت کے ساتھ اللہ کے حضور توبہ و استغفار کریں۔
اور چونکہ دوسرے نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم ہوچکے ہیں،اس لئے مرد کے ذمے طے شدہ مہر پورا لازم ہوگا،البتہ مہر مثل(یعنی وہ مہر جو والد کے گھرانے میں ان عورتوں کا عام طور پر طے کیا جاتا ہو جوعمر،خوبصورتی،کنوارے پن،مالداری،زمانے اور علاقے کے لحاظ سے آپ جیسی ہوں) سے زیادہ نہیں دیا جائے گا اور علیحدگی اختیار کرنے کے بعد عورت کے ذمے عدت بھی لازم ہوگی،کیونکہ لڑکے نے عدالتی فیصلے کو معتبر سمجھتے ہوئے سابقہ نکاح کو کالعدم سمجھ کر دوسرا نکاح کیا ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 55):
"(والولاية تنفيذ القول على الغير) تثبت بأربع: قرابة، وملك، وولاء، وإمامة (شاء أو أبى) وهي هنا نوعان: ولاية ندب على المكلفة ولو بكرا وولاية إجبار على الصغيرة ولو ثيبا ومعتوهة ومرقوقة كما أفاده بقوله (وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة".
"الفتاوى الهندية" (1/ 280):
"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع. ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها، تجب العدة، وإن كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب حتى لا يحرم على الزوج وطؤها، كذا في فتاوى قاضي خان. ويجوز لصاحب العدة أن يتزوجها، كذا في محيط السرخسي".
"الدر المختار " (3/ 516):
"(وعدة المنكوحة نكاحا فاسدا) فلا عدة في باطل وكذا موقوف قبل الإجازة اختيار، لكن الصواب ثبوت العدة والنسب بحر. (والموطوءة بشبهة) ومنه تزوج امرأة الغير غير عالم بحالها كما سيجيء.....
(غير الآيسة والحامل) فإن عدتهما بالأشهر والوضع (الحيض للموت) أي موت الواطئ (وغيره) كفرقة، أو متاركة؛ لأن عدة هؤلاء لتعرف براءة الرحم وهو بالحيض، ولم يكتف بحيضة احتياطا".
قال العلامة ابن عابدين رحمه ﷲ:" (قوله: نكاحا فاسدا) هي المنكوحة بغير شهود، ونكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة".
"البحر الرائق"(3/ 185):
" والتفريق في النكاح الفاسد إما بتفريق القاضي أو بمتاركة الزوج ولا يتحقق الطلاق في النكاح الفاسد بل هو متاركة فيه ولا تحقق للمتاركة إلا بالقول إن كانت مدخولا بها كقوله تاركتك أو تاركتها أو خليت سبيلك أو خليت سبيلها أو خليتها، وأما غير المدخول بها فتتحقق المتاركة بالقول وبالترك عند بعضهم وهو تركها على قصد أن لا يعود إليها وعند البعض لا تكون المتاركة إلا بالقول فيهما حتى لو تركها ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر وإنكار الزوج النكاح إن كان بحضرتها فهو متاركة وإلا فلا كإنكار الوكيل الوكالة.
وأما علم غير المتارك بالمتاركة فنقل في القنية قولين مصححين: الأول أنه شرط لصحة المتاركة هو الصحيح حتى لو لم يعلمها لا تنقضي عدتها، ثانيهما إن علم المرأة في المتاركة ليس بشرط في الأصح كما في الصحيح اهـ.
وينبغي ترجيح الثاني ولهذا اقتصر عليه الزيلعي وظاهر كلامهم أن المتاركة لا تكون من المرأة أصلا كما قيده الزيلعي بالزوج لكن في القنية أن لكل واحد منهما أن يستبد بفسخه قبل الدخول بالإجماع وبعد الدخول مختلف فيه وفي الذخيرة ولكل واحد من الزوجين فسخ هذا النكاح بغير محضر من صاحبه عند بعض المشايخ وعند بعضهم إن لم يدخل بها فكذلك وإن دخل بها فليس لواحد منهما حق الفسخ إلا بمحضر من صاحبه اهـ".
"رد المحتار" (3/ 131):
" (قوله :في نكاح فاسد) وحكم الدخول في النكاح الموقوف كالدخول في الفاسد، فيسقط الحد ويثبت النسب ويجب الأقل من المسمى ومن مهر المثل".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
13/جمادی الاولی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


