03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مہر کی ادائیگی میں نكاح كے وقت پکارے گئے مہر کا اعتبار ہوگا
86940نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

میری شادی تقریباً ڈھائی سال پہلے ہوئی۔ شادی کے موقع پر دونوں خاندانوں کی رضامندی سے حق مہر پانچ لاکھ روپے طے پایا۔ البتہ نکاح سے کچھ دیر پہلے(تقریباً آدھے گھنٹے پہلے)  لڑکی والوں کے پشاور سے آئے مہمانوں نے لڑکے کے والدین پر زور ڈال کر عین موقع پر 10 تولہ سونا مزید نکاح فارم میں بطور حق مہر لکھوادیا ۔ (نکاح فارم ملاحظہ فرمائیں جس میں حق مہر کی کل رقم اور اسکے جزیات میں تضاد ہے )

نکاح نامے میں مندرجہ ذیل نکات غور طلب ہیں۔ نکاح نامے کے کالم نمبر 13 میں مہر کی رقم پانچ لاکھ روپے لکھی گئی ہےجبکہ  کالم نمبر 14 میں معجل اور موجل رقم لکھنے کی جگہ انہوں نے 10 تولہ سونا جس میں سے ساڑھے تین تولہ ادا اور ساڑھے چھ تولہ  عندالطلب لکھا ہے۔مہرکی اس  تبدیلی سے  لڑکا  لا علم تھا،کیونکہ عین تبدیلی کے وقت لڑکا موجود نہیں تھا ۔ جب نکاح خواں نے نکاح پڑھانا شروع کیا اورلڑکے کے سامنے حق مہر پکارا تواچانک یہ مہر سن کر کچھ سمجھ نہ آیا اسی حیران کن کیفیت میں اورلڑکی والوں کی بے عزتی کے ڈر سے ،لڑکی کو پکارے گئے مہر کےساتھ اپنے نکاح میں قبول کرلیا۔ اب لڑکی والے بضد ہیں کہ حق مہر 6.5 تولہ سونا بھی ادا کیا جائے۔ جبکہ نکاح فارم میں حق مہر پانچ لاکھ روپے لکھا ہے۔ ساڑھے تین  تولہ سونا جو ادا کیا جاچکا ہے،اس کی  قیمت نکاح کی تاریخ کے مطابق (140000 روپے تولہ ) کے حساب سے تقریباً پانچ لاکھ روپے بنتی ہے ۔الغرض 3.5 تولہ سونا ادا کرنے سے مہر کی رقم تو پوری ہوچکی ہے ۔ اسکے علاوہ لڑکے نے دوسری چیزیں جن میں موبائل فون،ڈائمنڈ کی  انگوٹھی اور سونے کے کڑے جن کی مالیت دس لاکھ پچیس ہزارروپے (10,25000 ) بنتی ہے، اس صراحت کے ساتھ لڑکی کو   دےچکا ہے کہ یہ سب مہر کا حصہ ہیں۔ مزید یہ کہ دوران اختلافات لڑکی کم از کم دو بار اپنا حق مہر والا سونا معاف کرچکی ہے۔ ان تمام حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے چند سوالات کے جوابات درکار ہیں۔

-1کیا لڑکے کی رضامندی اور علم کے بغیر عین نکاح کے موقع پر حق مہر میں اضافہ کرنے سے حق مہر تبدیل ہوگیا ؟

-2 جب لڑکی نے زبانی طور پر اپنا مہر معاف کردیا تو کیا وہ معاف ہوا؟

-3اگر حق مہر معاف ہوچکا ہے تو جو سونا لڑکی کو دیا گیا ہے وہ واپس لیا جاسکتا ہے ؟

-4لڑکی والوں کا 6.5 تولہ سونےکا مطالبہ کرنا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ شوہر سے پوچھے بغیر مہر میں اضافہ کیا گیا ہے اور مجلس میں اخلاقی دباؤ کی وجہ سے شوہر نے اضافہ قبول کیا ہے،لہٰذا قضاءً تو شوہر اضافی مقدار(6.5تولے سونا) دینے کا پابند ہے،لیکن بیوی اور اس کے اولیاء کے لئے اضافی مقداروصول کرنا حرام ہے،کیونکہ یہ شوہر کی طیب نفس کے بغیر مقرر کیا گیا ہے ۔ البتہ جب قضاءً شوہر پر پورا مہریعنی 3.5تولہ سونا معجل اور  6.5تولہ سونامؤجل   لازم ہے، تو اب شوہر  بیوی کی رضامندی سے دس تولہ سونےمیں سے مؤجل  6.5تولہ سونے  کے بقدر رقم یا دیگر چیزیں بھی دے سکتا ہے  ۔ شوہر نے مہر کے عنوان سے بیوی کو جو چیزیں  دی ہیں ،ادائیگی کے  دن کے حساب سے  ان چیزوں کی قیمت  کا  حساب کیا جائے گا ،ان تمام چیزوں کی قیمت  اگر بقیہ6.5  تولہ سونے کے بقدر  ہے  ،تو مہر پورا ہوچکا ہےاور اگر اس سے کم ہے تو جو بچتا ہے شوہر اس کی ادئیگی کرے گا ۔

ٍاگر بیوی نےدلی  رضامندی سے بغیر کسی دباؤ کے اپنے حق مہر میں سے سونا معاف کیا ہواور یہ معافی ان اشیا ء(موبائل وغیرہ )کی بطور مہر ادائیگی سے قبل کی ہو، تو فقط غیر وصول شدہ سونا  معاف ہوچکا ہے، اب بیوی کے لئےاِس سونے کا مطالبہ درست نہیں۔ اگربیوی نے  ان اشیاء پربطور مہر کے قبضہ کرنے کے بعد سونا  معاف کیا ہو ،تو یہ زبانی معافی معتبر نہیں،جب تک  بیوی بطور ہبہ ان اشیاءکو واپس  نہ کردے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 295):

‌وأما ‌بيان ‌ما ‌يسقط ‌به ‌كل ‌المهر، فالمهر كله يسقط بأسباب أربعة.... ومنها: الإبراء عن ‌كل ‌المهر قبل الدخول وبعده إذا كان المهر دينا لأن الإبراء إسقاط، والإسقاط ممن هو من أهل الإسقاط في محل قابل للسقوط يوجب السقوط....منها: هبة كل المهر قبل القبض عيناً كان أو ديناً، وبعده إذا كان عيناً.

حاشية ابن عابدين  رد المحتار ط الحلبي (3/ 161):

(‌قوله ‌المهر ‌مهر ‌السر ‌إلخ) ‌المسألة ‌على ‌وجهين الأول تواضعا في السر على مهر ثم تعاقدا في العلانية بأكثر والجنس واحد، فإن اتفقا على المواضعة فالمهر مهر السر وإلا فالمسمى في العقد ما لم يبرهن الزوج على أن الزيادة سمعة وإن اختلف الجنس، فإن لم يتفقا على المواضعة فالمهر هو المسمى في العقد.

(تاتارخانیة:163/(4

المھر لا یخلو اما أن یکون دینا أو عینا ، نعنی بالعین العروض ...ونعنی بالدین الدراھم والدنانیر ، أما اذا کان المھر عینا فلیس للزوج أن یدفع الیھا غیرھا وان کان دینا کان للزوج أن یحبسہ ویدفع غیرہ.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 153):

فالحاصل أن الاعتبار ليوم العقد في حق التسمية وليوم القبض في حق دخوله في ضمانها وفي الذخيرة النكاح إذا أضيف إلى دراهم عين لا يتعلق بعينها، وإنما يتعلق بمثلها دينا في الذمة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 384):

‌هبة ‌الدين ‌ممن ‌عليه ‌الدين وإبراءه يتم من غير قبول من المديون ويرتد برده ذكره عامة المشايخ رحمهم الله تعالى، وهو المختار، كذا في جواهر الأخلاطي. وهذا إذا لم يكن الدين بدل الصرف، فأما إذا كان بدل الصرف فأبرأه رب الدين منه أو وهبه منه فإنه يتوقف على قبوله، فإن قبله برئ، وإن لم يقبل لا يبرأ، وفي سائر الديون يبرأ قبل أو لم يقبل إلا أنه ترتد الهبة والإبراء في سائر الديون بالرد.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 226):

قال: "وإن ‌وهب ‌هبة ‌لذي ‌رحم ‌محرم ‌منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها"؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل "وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر"؛ لأن المقصود فيها الصلة كما في القرابة.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

21/شعبان /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب