03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈاکٹر کا لیباٹری میں مریض بھیج کر کمیشن وصول کرنا
84630جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک ڈاکٹر اور لیبارٹری والے نے اس پر معاہدہ کیا ہے کہ ڈاکٹر اس کو ٹیسٹ کےلئے مریض بھیجے گا اور لیبارٹری والا اس کے بدلے ڈاکٹر کو اس ٹیسٹ کے عوض ۲۰ فیصد کمیشن دے گا۔ سوال یہ ہے کہ:

  1. کیا اس طرح کمیشن لینا جائز ہے؟
  2. اس کی جائز صورت کون سی ہے اور ناجائز کون سی ہے؟
  3. اگر لینا ناجائز ہے تو جو کمیشن اب تک لیا گیا ہے، اس کا کیا حکم ہوگا؟
  4. یہ بیع کی کون سی صورت بنتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طب اور ڈاکٹری ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ڈاکٹر کا مریض کی مصلحت اور خیرخواہی کو مدنظر رکھنا شرعی اور اخلاقی تقاضا ہے، اس بنا پر ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ہر وہ صورت جو مصلحت اور فائدے کے خلاف ہو یا جس میں ڈاکٹر کچھ پیسوں کی خاطر مریض کے ساتھ کسی قسم کی بددیانتی اور خیانت کا معاملہ کرتا ہودرست نہیں۔ لہٰذا اگر ڈاکٹر مریض کی مصلحت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اپنے کسی ذاتی نفع اور مالی فائدے کو مدنظر رکھ کر ٹیسٹ یا مخصوص دوائی تجویز کرتا ہے تو دیانت کے خلاف ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر گناہگار ہوگا، ورنہ نہیں۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں :

 (١،۲)جہاں تک ڈاکٹر کا لیب سے کمیشن لینے کی بات ہے، تو کسی مخصوص لیب کا ٹیسٹ لکھنے پر ڈاکٹر کا لیب سے کمیشن اور دیگر مراعات وصول کرنا جائز نہیں۔

اس کی فقہی تفصیل یہ ہے کہ ڈاکٹر کا کسی مخصوص لیب کا ٹیسٹ لکھنے پر کمیشن وصول کرنے کی چار صورتیں ہو سکتی ہیں:

١۔وہ ٹیسٹ صرف ایک ہی لیبارٹری میں ہوتا ہو تو اس لیب کا ٹیسٹ لکھنا ڈاکٹر کے ذمے شرعاً لازم ہے، اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے پر کمیشن لینا رشوت ہے، جو کہ جائز نہیں۔ لیکن یہ صورت آج کل معاشرے میں موجود نہیں ہے ،کیونکہ

ہر قسم کا ٹیسٹ متعدد لیبارٹریوں میں ہوتا ہے۔

۲۔وہ ٹیسٹ متعدد لیبارٹریوں میں ہوتا ہو، اور اگر ان سب میں ٹیسٹ کے معیار میں فرق ہو تو اس صورت میں بھی کمیشن لینا جائز نہیں۔

۳۔وہ ٹیسٹ متعدد لیبارٹریوں میں ہوتا ہو، اور ان سب میں ٹیسٹ کا معیار ایک ہو، لیکن اس ٹیسٹ کی قیمت میں فرق ہو، تب بھی کمیشن لینا جائز نہ ہوگا۔

۴۔ٹیسٹ کا معیار ایک ہونے کے ساتھ قیمت میں بھی کوئی خاص فرق نہ پایا جاتا ہو تو پھر جس لیب سے کمیشن لینے کا معاہدہ کیا ہوا ہے، درج ذیل شرائط کے ساتھ کمیشن لینا جائز ہو سکتا ہے:

  • کمیشن فیصد کے اعتبار سے یا متعین رقم کی صورت میں پہلے سے طے ہو۔
  • لیب والے اس کمیشن کا خرچ مریض سے وصول نہ کرتے ہوں۔
  • ڈاکٹر دوسرے لیب کا ٹیسٹ مفید سمجھنے کے باوجود مذکورہ لیب کا ٹیسٹ تجویز نہ کرتا ہو۔
  • مریض کو اسی لیب سے ٹیسٹ کروانے کے لیے مخصوص حربے استعمال نہ کیے جاتے ہوں۔

لیکن آج کل، اولاً تو مذکورہ آخری صورت (یعنی معیار ایک ہو اور قیمت میں کوئی خاص فرق نہ ہو) نہ ہونے کے برابر ہے۔ ثانیاً: کمیشن لینے کو عموماً صرف اسی آخری صورت کے ساتھ خاص نہیں سمجھا جاتا۔ ثالثاً: عام طور پر جو جائز ہونے کی ممکنہ صورت ہے، اس میں مذکورہ شرائط نہیں پائی جاتیں، اس لیے معتبر علمائے کرام نے مطلقاً ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ (کمانی فتاوی رشیدیہٍٍٍص: 558، امداد الفتاوی 3/410، فتاوی دار العلوم کراچی: 1343/96، فتاوی جامعة الرشید: 57/61266)۔

(۳)۔اگرمذکورہ شرائط موجود تھیں تواجرت جائزہےاوراگرنہیں تھیں یاکوئی ایک شرط مفقود تھی تو جائز نہ ہوگی اوربلانیت ثواب صدقہ کی جائے گی۔

(۴)۔یہ کمیشن لینا بیع نہیں،بلکہ اجارے کے زمرے میں آتاہے۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن نجيم رحمه الله:

وذكر الأقطع أن الفرق بين الهدية والرشوة: أن الرشوة ما يُعطى بشرط أن يُعينه، والهدية لا شرط معها...... وفي السير الكبير: الرشوة لا تملك، إلى أن قال: أبرأه عن الدين ليُصلح مهمه عند السلطان لا يبرأ، وهو رشوة...... لأنه مقصود على إصلاح المهم، وإصلاح المهم مستحق عليه ديانة، وبذل المال فيما هو مستحق عليه حد الرشوة اهـ." (البحر الرائق: 6/285)

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:

"ثم الرشوة أربعة أقسام الرابع .... ما يُدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله، حلال للدافع،

حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب، ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب اهـ."

قال العلامة الكاساني رحمه الله:

ولو استأجرها للمطبخ والخَبْز لم يجز ، ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك، لأنها لو أخذت الأجرة لأخذتها على عمل واجب عليها في الفتوى، فكان في معنى الرشوة، فلا يحل لها الأخذ. (بدائع الصنائع: 4/24)

روى الإمام مسلم رحمه الله بسنده:

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "... ومن غشنا فليس منا." (صحيح مسلم: 1/99)

في المجلة: (المادة 611):

 "الأجير المشترك يضمن الضرر والخسائر التي تولدت  عن فعله ووصفه إن كان بتعديه وتقصيره أو لم يكن." (مجلة الأحكام العدلية: 114)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

18/02/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب