| 86404 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
میں ایک ملازم ہوں اور میں نے میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولا ہوا ہے۔ میرا ایک دوست ہے جس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں اس کے پیسے اپنے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھ لوں، اور بینک جو نفع دے گا، وہ میرا ہوگا۔ وہ اپنے پیسوں پر نفع نہیں لینا چاہتا۔ کیا اس طریقے سے میرے لیے اس کے پیسوں سے نفع حاصل کرنا جائز ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ امانت پیسوں میں جب تصرف کی اجازت مل جائے تو وہ قرض بن جاتا ہے۔صورتِ مسئولہ میں آپ کے دوست کے پیسے آپ کے پاس بطورِ قرض ہیں،جبکہ میزان بینک میں آپ نے جو سیونگ اکاؤنٹ کھولا ہے وہ مضاربہ یا مشارکہ کے بنیاد پر ہوگا ، اور اس سے حاصل ہونے وا لا نفع آپ کے لئے لینا جائز ہوگا۔
حوالہ جات
فقه البيوع (115/01):
وإنما هي أمانة بيد البائع، تجري عليها أحكام الأمانات، ولا يجوز لأخذها أن يتموّلها لنفسه، ولا يجوز استثمارها إلا بإذن مالكها، بشرط أن يكون الربح له.
يجوز بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 363):
أما الأموال المودعة في المصارف الإسلامية، فإن ما أودع في حساباتها الجارية، فإنه ينطبق عليه ما ذكرنا في الحسابات الجارية للبنوك التقليدية سواء بسواء، فهي قروض قدمها أصحابها إلى البنك، وهي مضمونة عليه، وتجري عليها جميع أحكام القرض: ولكن يختلف تكييف الودائع الثابتة وحسابات التوفير في البنوك الإسلامية من تكييفها في البنوك التقليدية، فإن هذه الودائع قروض أيضا في البنوك التقليدية قدمت إليها على أساس الفائدة الربوية، ولكن البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربوية، بل إنما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضا، وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحق حصة مشاعة من ربح البنك، وتحتمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران، وليست مضمونة على البنك، فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها، إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التعدي.
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
13/رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


