| 85721 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
پڑوسی کے گھر میں گیس موجود ہے،اس نے کہا کہ میں گیس دے دوں گا ،لیکن ماہانہ بل آپ دیں گے، پڑوسی سے ہی معلوم ہوا ہے کہ اس کا میٹر حکومت کاٹ کر لے گئی ہے اور وہ سوئی گیس ادارے کے ایک شخص کو ماہانہ فکس رقم دیکر گیس استعمال کررہا ہے۔ اب ایسے پڑوسی سے گیس لینا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کمپنی کے واجبات ادا نہ کرنے پر کمپنی میٹر اتار کے لے جاتی ہے،جس کے بعد گیس کے استعمال پر اس وقت تک پابندی ہوتی ہے جب تک کمپنی کے طریقہ کار کے مطابق ادائیگی کرکے میٹر نہ لگوایاجائے،اس لیے کمپنی کے قواعد سے ہٹ کر خفیہ طریقے سے گیس حاصل کرنا اور اس کی رقم کمپنی کے بجائے کسی اہلکار کو دینا درست نہیں ہے، نیز ایسے پڑوسی سے پھر اپنے لیے گیس حاصل کرنا بھی درست نہیں ہے.
حوالہ جات
درر الحکام في شرح مجلة الأحكام(97، 98/1):
"لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده» فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا."
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
30/ جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


