03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام مسجد کا بچوں کو درس دینا
86349وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

امام کی تنخواہ میں نمازوں اور بچوں کے لیے درس قران کی مد میں علیحدہ علیحدہ رقم مختص کی جا سکتی ہے؟  اگر امام بچوں کادرس نہیں کرواتا تو اس کی تنخواہ سے درس کی رقم کو کاٹ کر اسکی جگہ کسی اور استاد کو مقرر کر کے اسکو دی جا سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

امام کی تقرری کے وقت جو ذمہ داریاں اس کے فرائض منصبی کی بابت،معروف طریقے سے مسجد کمیٹی کے ساتھ طے پائی ہوں ان کو پورا کرنا امام کے ذمہ لازم ہے ۔ اگر امام کی تقرری کے وقت  یہ طے کردیا جائے کہ بچوں کا درس بھی اس کے ذمہ ہوگا اور درس کے ساتھ امامت کی تنخواہ اس قدر ہوگی ، پھر امام بچوں کا درس نہ کروانا چاہے تو درس کے بقدر رقم اس کی تنخواہ سے کاٹ کر کسی اور استاد کے لئے طے کی جاسکتی ہے ۔

حوالہ جات

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ(ج9،ص243):

وفي السنة النبوية ورد حديث:. . . المسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا وفي رواية: عند شروطهم، وحديث: مقاطع الحقوق عند الشروط،  وحديث: ما كان من شرط ليس في كتاب الله، فهو باطل  أي ليس فيما كتبه الله وأوجبه في شريعته التي شرعها. وحديث: عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه: نهى عن بيع وشرط.

فهذه النصوص - في مجموعها - تشير إلى أن هناك: شروطا مباحة للمتعاقدين، يتخيرون منها ما يشاءون للالتزام بها في عقودهما، وشروطا محظورة، لا حق لأحد من المتعاقدين في اشتراطها في عقودهما، لما أنها تناقض المقصود، أو تخالف القواعد العامة الشرعية، أو تصادم مقصدا من مقاصد الشريعة.

الدر المختاروحاشیہ  ابن عابدین (6/5): وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين.

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب