| 86346 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
اگر محلے میں نااتفاقی ہو، اور امام مسجد اور کمیٹی کے احباب صرف پنج گانہ نمازوں اور ماہوار چندوں تک محدود ہوں اور وہ محلے کے تمام افراد اور نمازیوں کے باہمی اتفاق و اتحاد سے بالکل لاتعلق ہو، اور نہ ہی بچوں کے درس قرآن کے بارے میں سنجیدہ ہو اور دیگر علمی دروس کے شروع کرنے کے بارے میں بے فکر ہوں، اور نہ ہی ان امور کی استعداد رکھتے ہوں، اور محلے والے باوجود چاہت کے امام صاحب اور کمیٹی کی عدم دلچسپی اور نامناسب مزاج کی وجہ سے ان چیزوں کی گذارش کرنے سے بیزار ہوں، تو کیا محلے سے باہر کے اثر و رسوخ والے افراد کو ان اعمال کے شروع کروانے اور دیگر مسائل کے حل کیلئے بلوایا جا سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر امام مسجد ، کمیٹی کے ارکان اور اہل محلہ میں سے کوئی بھی مذکورہ معاملات کو سنجیدگی سےنہیں لیتا، تواس صورت میں محلے سے باہر کے اثر و رسوخ والے افراد کو ان اعمال کے شروع کروانے اور دیگر مسائل کے حل کیلئے بلوایا جا سکتا ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ یہ کام امام اور اہل محلہ کو اعتماد میں لے کر کیا جائے ، تاکہ فساد اور جھگڑے کا باعث نہ رہے ۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی ،المائدة(2): وَ تَعَاوَنُوا عَلَی البِروَ التَّقوٰی. ........ الآیۃ
سورة البقرة (83): وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاة
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
11/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


