03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کی عدت کے دوران ملازمت کا حکم
87510طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہیں ۔ میں ایک ملازمہ ہوں، طلاق کی عدت کے دوران میں ملازمت پر جاسکتی ہوں کہ نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نابالغ بچوں کا نان نفقہ توبالغ ہونے تک باپ کے ذمے لازم ہے،اسی طرح عدت کے دوران بیوی  کا نان نفقہ بھی شوہر کے ذمے لازم ہے،اس لیے طلاق یافتہ عورت کا عدت کے دوران ملازمت کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں ،ایسی صورت میں عدت کے لئے ملازمت سے رخصت لینا لازم ہے ۔ تاہم اگر شوہر اپنا فرض پورا نہ کرتا ہو اور بیوی بچوں کو نان نفقہ نہ دیتا ہو اور شوہر کے علاوہ عورت کا کوئی قریبی رشتہ دار بھی اس کا نان نفقہ نہ دے سکتا ہو تو پھر بوجہ مجبوری دن کے وقت ملازمت کے لیے نکلنے کی گنجائش ہے،لیکن ملازمت کا وقت پورا ہوتے ہی گھر واپس لوٹنا لازم ہے۔(تبویب ، دارالافتاء ،جامعۃ الرشید : 70360)

حوالہ جات

رد المحتار (3/ 536):

قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى

انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها. اهـ. وبهذا اندفع قول البحر إن الظاهر من كلامهم جواز خروج المعتدة عن وفاة نهارا ولو كان عندها نفقة، وإلا لقالوا: لا تخرج المعتدة عن طلاق، أو موت إلا لضرورة فإن المطلقة تخرج للضرورة ليلا، أو نهارا اهـ.

ووجه الدفع أن معتدة الموت لما كانت في العادة محتاجة إلى الخروج لأجل أن تكتسب للنفقة قالوا:

إنها تخرج في النهار وبعض الليل، بخلاف المطلقة. وأما الخروج للضرورة فلا فرق فيه بينهما كما نصوا عليه فيما يأتي".

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

16/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب