| 86245 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم مفتی صاحب !میری والدہ کے انتقال کے بعد ایک اہم مسئلہ پر شرعی رہنمائی درکار ہے۔ ہماری والدہ اور والد کا ہمارے بچپن میں ہی طلاق ہوگئی تھی اور ہم تین بھائی اور ایک چھوٹی بہن اپنے والد کے ساتھ رہے۔ ہمارے والد نے ہماری پرورش کی اور والدہ سے ملنے کی اجازت بھی دی۔ والدہ نے دوسری شادی کی تھی لیکن ان کی دوسری شادی سے کوئی اولاد نہیں تھی، ہم چار بہن بھائی ہی اپنی والدہ کی سگی اولاد ہیں۔ والدہ سے بھی ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں اور ملاقاتیں بھی معمول کے مطابق ہوتی رہیں۔ والدہ پاکستان نیوی میں ملازمت کرتی تھیں۔ASI کے عہدے پر فائز تھیں۔ دو ماہ قبل والدہ کا انتقال ہوا ہے اور ہمیں معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی ملازمت سے حاصل ہونے والی ریٹائرمنٹ (گریجویٹی فنڈ، پنشن، جی پی فنڈ) کی تمام رقم اپنے دوسرے شوہر کے نام کردی تھی۔ اور دو ماہ بعد ان کے دوسرے شوہر نے دوبارہ شادی کرلی ہے۔ رقم کی وصولی کے مطابق کوئی بھی دستاویزات ہمیں بطور ثبوت نہیں دکھائے گئے، صرف زبانی باتیں بتائی گئی ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہماری والدہ کی ریٹائرمنٹ (گریجویٹی فنڈ، پنشن، جی پی فنڈ) کی رقم میں ہماری کوئی شرعی حصہ ہے؟ ہماری والدہ نے اپنی زندگی میں ہم سے اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ ان کے انتقال کے بعد ان کی ساری دولت ان کے موجودہ شوہر کی ہوگی اور نہ ہی ہمیں اس بات کی صداقت کے کوئی ثبوت دکھائے گئے ہیں۔ ہم گزارش کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں: 1. کیا ہماری والدہ کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ میں ہمارا کوئی شرعی حق ہے؟ 2. کیا والدہ کی ریٹائرمنٹ(گریجویٹی فنڈ، پنشن، جی پی فنڈ) کی رقم بھی اولاد کے لیے ترکہ میں شامل ہوگی؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آپ کی رہنمائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ والسلام، درخواست گزار: (چاروں بہن بھائی) بلال مصطفی شناختی کارڈ نمبر: 42201-0139022-5 0336- 2543922 نیہال مصطفیٰ شناختی کارڈ نمبر: 42201-0665555-5 0314-8020651 منہاج مصطفیٰ شناختی کارڈ نمبر: 42201-2435756-3 0311-2060951 رِدا فہد شاہ شناختی کارڈ نمبر: 42201-8436726-2 0333-1371021
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت ِ مسئولہ میں مرحومہ کے ورثہ (تینوں بیٹے اور بیٹی) ترکہ کے شرعی حقدار ہیں اور ریٹائرمنٹ فنڈ کی رقم بھی ترکہ میں شامل ہو گی۔
سوال میں ذکر کیے گئے تین (گریجویٹی فنڈ، ماہانہ پنشن، جی پی فنڈ) فنڈز کاشرعی حکم بیان کیاجاتاہے۔
رٹائرمنٹ کی صورت میں ملازم زندگی میں گریجویٹی کی مکمل رقم کے مطالبہ کا حق دار ہوتا ہے، لہذا حق لازم ہونے کی وجہ سے گریجویٹی کو مکمل طور پر ترکہ شمار کیا جائے گا اور ملازم کے تمام ورثہ اپنے شرعی حصوں کے مطابق اس کے حق دار ہوتے ہیں،تاہم اگر دوران سروس انتقال ہوا اور گریجویٹی زندگی میں حق لازم نہیں بنی تھی تو پھر دو صورتیں ہوں گی۔
1۔ کسی متعین وارث مثلا شوہر/ بیوی کے نام جاری ہو تو وہی اس کا مالک ہو گا۔
2۔ اگر بغیر تعین کے جاری ہو تو تمام ورثہ برابر کے شریک ہوں گے، بہن بھائی برابر حصہ لیں گے۔
تاہم ماہانہ ملنے والی پنشن قانوناریٹائر منٹ کے بعد مہینہ پورا ہونے سے پہلے حق لازم نہیں ہوتی، بلکہ مہینہ گزرنے پر حق لازم بنتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ مہینہ پورا ہونے سے پہلے ملازم کو اس کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح مہینہ گزرنے کے بعد بھی صرف گزشتہ مہینے کی پنشن کے مطالبے کا حق ہوتا ہے ، آئندہ مہینوں کی پنشن کا مطالبہ ملازم نہیں کر سکتا، اس سے معلوم ہوا کہ آئندہ مہینوں کی پنشن ملازم کا حق لازم نہیں بنی تھی، لہذا اگر ملازم کی وفات ہو جائے تو آنے والے مہینوں کی پنشن اس کا ترکہ شمار نہیں ہو گی، بلکہ وہ قانون کے مطابق متعین فرد کے لیے عطیہ شمار ہو گی۔
جبکہ جی پی فنڈ کی رقم کا ملازم اپنی زندگی میں ہی مستحق بن جاتا ہے اور ملنا یقینی ہوتا ہے،لیکن ادارہ جاتی پالیسی کی وجہ سے وہ اپنی زندگی میں اس کو قبضہ میں نہیں لاسکتا ، چونکہ اس نوعیت کے اموال کا ملازم اپنی زندگی میں ہی مستحق بن جاتا ہے ، اس لیے اس کی وفات کے بعد دیگر اموال کے ساتھ اس پر بھی میراث کے احکامات لاگو ہوں گے، اور یہ تمام ورثہ کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کی جائے گی۔ جی پی فنڈ، ملازم کی اپنی تنخواہ سے کٹوتی کی ہوئی رقم ہوتی ہے ، کبھی یہ کٹوتی جبرا ہوتی ہے اور کبھی اختیاری، البتہ سرکاری جی پی فنڈ کی رقم میں اگر اپنے اختیار سے بھی کٹوتی کروائی گئی ہو تو اس صورت میں اضافی ملنے والی رقم کو صدقہ کرنا بہتر ہے، لازم نہیں۔
ا گر مرحومہ نے اپنی زندگی میں رٹائرمنٹ فنڈزاپنے شوہر کو مکمل مالکانہ قبضہ و تصرف کے ساتھ حوالہ کردیے ہوں تو شوہرمالک بن جائے گا ،لیکن اگر اس نے دیگر ورثہ کو محروم کرنے کی نیت سے ایسا کیا تویہ گناہ کا کام ہوگا اور اس پر سخت وعید ہے،اس سے اجتناب لازم تھا۔ اگر مکمل مالکانہ قبضہ و تصرف کے ساتھ حوالہ نہیں کیے تو شوہر ان فنڈز کا مالک نہیں ہوگا، ریٹائرمنٹ فنڈز سائل کی والدہ کا ترکہ ہیں، جو تمام شرعی ورثہ میں شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوں گے۔جن فنڈز میں سائل اور سائل کی بہن، بھائیوں کا حصہ ہے، اگر سائل کے سوتیلے والدنے انہیں اس حصے سے محروم رکھا تو وہ گناہ گار ہوگا اور قیامت کے دن سخت پکڑ ہوگی۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ کے انتقال کے بعد مرحومہ کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو ) اداکیاجائےگا،پھر مرحومہ کاقرضہ اداکیاجائےگا،اس کے بعد اگرمرحومہ نے کسی کے لیے اپنے مال میں سے جائزوصیت کی ہے تو تہائی حصہ تک اسے اداکیاجائے۔موجودہ صورت میں مرحوم کےمال میں سابقہ تینوں حقوق اداءکرنےکےبعدموجودہ ورثہ میں میراث کی تقسیم کی جائےگی ۔ نیزمیراث کی تقسیم معلوم کرنے کے لیے ترکہ کی مکمل تفصیل بتا کر معلوم کرلیا جائے ۔
حوالہ جات
وقال الله تعاليﵟتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ 13 وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٞ مُّهِينٞ 14 ﵞ [النساء: 13-14]
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالي:(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة) (الدر المختار 6/ 759)
وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالي:(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.واعلم أنه يدخل في التركة الدية الواجبة بالقتل الخطأ أو بالصلح عن العمد أو بانقلاب القصاص مالا بعفو بعض الأولياء، فتقضى منه ديون الميت وتنفذ وصاياه كما في الذخيرة) ( رد المحتار :6/ 759)
وقال أيضا:( قال : في البدائع : الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها، أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا، فإنه يلحق بتفويت حقيقة الملك في حق الضمان كحق المرتهن، ولذا لا يضمن بإتلاف شيء من الغنيمة أو وطء جارية منها قبل الإحراز؛ لأن الفائت مجرد الحق وإنه غير مضمون وبعد الإحراز بدار الإسلام، ولو قبل القسمة يضمن لتفويت حقيقة الملك ويجب عليه القيمة في قتله عبدا من الغنيمة يعد الإحراز في ثلاث سنين بيري، وأراد بقوله لتفويت حقيقة الملك الحق المؤكد إذ لا تحصل حقيقة الملك إلا بعد القسمة كمامر.( رد المحتار :4/ 518)
وقال الشيخ وَهْبَة بن مصطفى الزُّحَيْلِيّ:(الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقها: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي)
(الفقه الإسلامي:10/ 7697)
وفي الهندية 🙁ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى)(الفتاوى الهندية : 4/ 391)
و في مجلة الأحكام العدلیۃ:( المادة 2 9 0 1) كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم)
(مجلة الأحكام العدلية :ص210)
وفیها أيضا: (المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح.(مجلة الأحكام العدلية :ص206)
محمد بلال بن محمدطاہر
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
07/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد بلال بن محمد طاہر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


