03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکی پہلی بیوی کی اولاد کے لیے وصیت کرنے کا حکم
86303وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

ہمارا مکان 60 گز کا ہے، جو میری بیوی کے نام ہے ،یہ اوپر نیچے کا بنا ہوا ہے، اُوپر کا حصہ کرائے پر دیا ہوا ہے، جبکہ نیچے والے حصے پر میں، میری بیوی اور میرا بیٹا رہتے ہیں، جس کا کرایہ بیگم صاحبہ لے رہی ہیں، ان سے میری کوئی اولاد نہیں ہے، میری پہلی مرحوم بیوی سے ایک بیٹا اور ایک  بیٹی ہیں، میری بیوی شرعی اور قانونی طور پر ایک معاہدے کے تحت اُوپر والا پورشن میرے نام کر رہی ہے، جبکہ نیچےوالے حصے کے بارے میں اُس کا موقف یہ ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ پورشن تمہارے بچوں کا ہے۔ مفتی صاحب  سوال یہ ہے کہ کیا میرے بچے میری بیوی کی وارثت میں حصے دار بن سکتے ہیں؟ نیزکیا میرا بھی اس کی وارثت میں حصہ ہوگا ؟میرے اور میرے بچوں کے علاوہ کون کون لوگ اس کی وارثت کے حصے دار بن سکتے ہیں؟ جبکہ فی الحال ان کے پانچ بھائی، ان کی اولاد اور بہنیں حیات ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی کا یہ کہنا کہ میری وفات کے بعد نیچے والا پورشن آپ کی اولاد کا ہو گا، شرعی اعتبار سے یہ جملہ وصیت کا حکم رکھتا ہے اور آپ کی اس اولاد کا چونکہ آپ کی بیوی کے ساتھ کوئی نسبی تعلق قائم نہیں ہے، اس لیے ان کے حق میں وصیت کرنا درست ہے اوروصیت ایک تہائی مال میں نافذ ہوتی ہے، لہذا عورت کی وفات کے بعداگر یہ پورشن اس کے کل ترکہ کا ایک تہائی بنتا ہو تو آپ کے دونوں بچے اس مکمل مکان کے شرعا مالک  بن جائیں گے اور ان دونوں کے درمیان یہ مکان آدھا آدھا تقسیم ہو گا اور اگر اس مکان کی مالیت عورت کی کل متروکہ جائیداد کے ایک تہائی سے زیادہ ہو تو اس صورت میں تہائی سے اوپر والے حصہ میں وصیت کا نافذ ہونا عورت کے ورثاء کی اجازت پر موقوف ہو گا۔

باقی مذکورہ صورت میں پہلی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے آپ کی مذکورہ بیوی کے شرعا وارث نہیں ہیں، البتہ آپ اس کے شرعی وارث ہیں، اسی طرح آپ کی بیوی کے بھائی اور بہنیں بھی ان کے وارث ہوں گے، باقی ہر وارث کا ان کی وراثت میں کتنا حصہ ہو گا؟ تو اس کا حساب ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء کے اعتبار سے کیا جائے گا۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (13/ 391) دار الكتب العلمية – بيروت:

م: (ثم تصح) ش: أي الوصية في الثلث م: (للأجنبي في الثلث من غير إجازة الورثة لما روينا) ش: أشار إلى وجه الاستحسان من المنقول والمعقول.

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 292) المطبعة الخيرية:

قوله (ومن أوصى لرجل بثلث ماله ولآخر بثلث ماله ولم تجز الورثة فالثلث بينهما نصفان) أما إذا أجازوا استحق كل واحد منهما الثلث بكماله فيكون لهما الثلثان ويبقى للورثة الثلث.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/رجب المرجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب