| 87054 | جنازے کےمسائل | شہید کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ جو لوگ چپکے سے سمندری جہازوں میں باہر ممالک جاتے ہیں، اگر وہ راستے میں مرجائیں توان کو شہید کہا جا سکتا ہے یا نہیں ؟کیونکہ اس طرح کا سفر غیر قانونی ہے، رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر اپنے ملک میں کام اور روز گار مل سکتا ہے تو اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر غیر قانونی راستے سے بیرون ملک جانا جائز نہیں اور اس میں جان خطرے میں ڈالنے اور قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔
اور اگر کوئی شخص مجبوری اور روزگار نہ ملنے کی وجہ سےکسی جائز کام کے ارادے سے بیرون ملک غیر قانونی راستے سے جارہا ہو اور راستے میں اس کا انتقال ہوجائے ، تو ا س وقت وہ شرعی مسافر کے حکم میں ہوگا اور سفر میں اس کا انتقال ہوجائے تو وہ آخرت کے اعتبار سے شہید کے حکم میں ہوگا۔اگرچہ قانون کی خلاف ورزی کا گناہ اس کو ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامة النیسابوری رحمه الله:وقيل: بل هاهنا حذف أي لا تلقوا أنفسكم بأيديكم إلى التهلكة كما يقال (أهلك فلان نفسه بيده) إذا تسبب لهلاكها.(تفسیر النیسابوری:1/532)
قال العلامة القرطبی رحمه الله:وقال قوم: التقدير لا تلقوا أنفسكم بأيديكم، كما تقول: لا تفسد حالك برأيك.(تفسیر القرطبی:2/363)
و فی کنز العمال :عن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس للمسلم أن يذل نفسه، قالوا: يا رسول الله وكيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من البلاء لما لا يطيق.(کنز العمال :3/802)
قال العلامة الکاسانی رحمه الله:ثم المرتث وإن لم يكن شهيدا في حكم الدنيا فهو شهيد في حق الثواب حتى إنه ينال ثواب الشهداء كالغريق، والحريق، والمبطون، والغريب إنهم شهداء بشهادة الرسول صلى الله عليه وسلم لهم بالشهادة، وإن لم يظهر حكم شهادتهم في الدنيا.(بدائع الصنائع:1/322)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
1/رمضان المبارک، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


