03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حلال جانوروں کے پروں سے مأخوذ وٹامن ڈی 3 کو غذائی مصنوعات میں استعمال کرنے کاحکم
86370جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

حلال جانوروں کے پروں سے حاصل ہونے والی وٹامن ڈی 3 کو غذائی مصنوعات میں  استعمال کرنا کیسا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حلال جانوروں کے پر  چاہے مذبوح جانور سے حاصل ہوں یا زندہ جانور سے الگ ہوئے ہوں بہر صورت پاک اور حلال ہیں ،لہذاحلال جانوروں کے پروں سے حاصل کی جانے والی وٹامن ڈی 3 کو کھانے کی مصنوعات میں شامل کرنا جائز ہے۔بشرطیکہ تیاری کے عمل کے دوران کوئی نجس،حرام یا مضر صحت  چیز نہ ملے۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن الهمام رحمه الله : كل ما لا تحله الحياة من أجزاء الهوية محكوم بطهارته بعد موت ما هي جزؤه كالشعر والريش والمنقار والعظم والعصب والحافر والظلف واللبن والبيض الضعيف القشر والإنفحة...... وفي السنة أيضا ما يدل عليه وهو قوله - صلى الله عليه وسلم - «في شاة مولاة ميمونة حين مر بها ميتة إنما حرم أكلها» في الصحيحين. وفي لفظ «إنما حرم عليكم لحمها ورخص لكم في مسكها» وأخرج الدارقطني عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس «إنما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم  من الميتة لحمها، فأما الجلد والشعر والصوف فلا بأس به».(فتح القدير:97/1)

ایسا جزو کاٹ کر کام میں لانا جو غیر ذی حس ہو جیسے زندہ ہاتھی کا دانت کاٹ لیں یا بکری کے بال کاٹ لیں تو یہ پاک ہے،اگر حلال جانور کا جزو ہے تو کھانا بھی حلال ہے۔(طبی جوہر:103)

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۵ رجب المرجب  ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب