03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پندرہ سال قبل شوہر کے لاپتہ ہونے پر نکاح ثانی کا حکم
87620طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

تقریباً پندرہ سال قبل میرے شوہر کو سرکاری ایجنسی کے افراد گھر سے لے گئے تھے، میں نے عدالت سے بھی رجوع کیا، لیکن تا حال اُن کی کوئی خبر نہیں مل سکی، اب پندرہ برس گزر چکے ہیں، میرے اہلِ خانہ اور خود میں بھی اس امر پر آمادہ ہوں کہ اگر شرعاً اجازت ہو تو میں دوسرا نکاح کر لوں۔

۱. براہِ کرم راہ نمائی فرمائیے کہ ایسے حالات میں شریعت کا حکم کیا ہے؟

۲. دوسرا نکاح کرنے کا شرعی طریقہٴ کار کیا ہوگا؟

وضاحت: سائلہ کو نان ونفقہ ان کے سسر دے رہے ہیں، البتہ گھر میں تنہائی اور عزت وعصمت وغیرہ کے مسائل کی وجہ سے پریشان ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1،2: صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر کے مفقود یعنی لاپتہ ہونے کو پندرہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے تو آپ  عدالت کے ذریعہ موجودہ نکاح ختم کروا کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں، جس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ عدالت میں اپنے شوہر کے لاپتہ ہونے کا دعوی دائر کریں  اور جج کے سامنے گواہوں کے ذریعہ اپنے دعوی کو ثابت کردیں کہ میرا شوہر اتنے عرصہ سے لاپتہ ہے، نیز اس کے ساتھ اپنی عزت وناموس کے عدمِ تحفظ پر بھی حلفیہ بیان بھی دے (اس کے لیے زبانی بیان دینا ضروری نہیں، بلکہ دعوی میں حلفاً یہ بات ذکر کردینا کافی ہے)، اس کے بعد جب عدالت  گواہوں کی بنیاد پر نکاح فسخ کر دےیا شوہر کے قائم مقام ہو کر عورت پر ایک طلاق  کے وقوع کا فیصلہ کر دے تو اس دن سے آپ کی عدت شروع ہو جائے گی،  تین ماہواری عدت  گزارنے کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔

نوٹ: واضح رہے کہ معصیت کے اندیشہ کی صورت میں مالکیہ کے مسلک کے مطابق اکابر کے فتاوی اور حیلہٴ ناجزہ کی عبارت میں بھی عدالت سے رجوع کے بعد قاضی کے ایک سال کی مہلت دینے کا بھی ذکر ہے، لیکن فتاوی عثمانی(448/2)، احسن الفتاوی (422/5) اور حاشیہ حیلہٴ ناجزہ (ص:109)کی ایک عبارت  میں قاضی کے بغیر مہلت دیے فوری طلاق دینے کا بھی ذکر ہے اورآج کل چونکہ ہماری عدالتوں میں تنسیخِ نکاح کے کسی بھی مسئلہ میں مہلت نہیں دی جاتی، بلکہ عورت کے مطالبے پر فوری نکاح ختم کر دیا جاتا ہے، اس لیے مذکورہ مسئلہ میں بھی اسی قول کو لیتے ہوئے قاضی کے فوری طلاق دینے کا حکم لکھا گیا ہے، خصوصاً جبکہ اس سے قبل پندرہ سال کی مدت گزر چکی ہے۔

حوالہ جات

منح الجليل شرح مختصر خليل (4/ 318) دار الفكر – بيروت:

(فيؤجل) بضم التحتية وفتح الهمز والجيم، المفقود الحر (أربع سنين إن دامت نفقتها) أي زوجة المفقود من ماله ولو غير مدخول بها ولم تدعه للدخول بها قبل غيبته حيث طلبتها الآن واشتراط الدعاء له في وجوب إنفاق الزوج في الحاضر فقط ويكفي في وجوبها في مال الغائب أن لا تظهر الامتناع منه فإن لم تدم نفقتها من ماله فلها التطليق لعدم النفقة بلا تأجيل وكذا إن خشيت على نفسها الزنا فيزاد على دوام نفقتها عدم خشيتها الزنا.

الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (2/ 479) الناشر: دار الفكر:

(قوله:) (فيؤجل) أي المفقود الحر أربع سنين سواء كانت الزوجة مدخولا بها أم لا دعته قبل غيبته للدخول أو لا والحق أن تأجيل الحر بأربع سنين والعبد بنصفها تعبدي أجمع الصحابة عليه (قوله وإلا طلق عليه) أي من حين العجز عن خبره من غير تأجيل بعد ذلك.

الدر المختار مع الرد (ج5، ص414، ط: دار الفكر،بيروت):

"(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا ذكره منلا خسرو في باب خيار العيب.

قال ابن عابدين: قلت: ويؤيده ما يأتي قريبًا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لايجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ".

التاج والإكليل لمختصر خليل (5/ 502) الناشر: دار الكتب العلمية:

وأما مسألة ذات المفقود تتزوج في عدتها فقال أبو عمران في زوجة المفقود إذا مضت الأربع سنين ثم تزوجت قبل انقضاء أربعة أشهر وعشر بعد الأربع سنين: فإن الحاكم يفسخ نكاحها لأنه نكاح في عدة، فإن ثبت بعد ذلك أن المفقود قد مات قبل ذلك وأن نكاحها إنما كان بعد عدة وفاته فإن الفسخ برد وترجع لمن تزوجته وهو مثل المنعي لها زوجها.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

26/ذوالقعدة 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب