| 86606 | جائز و ناجائزامور کا بیان | ناخن ،مونچھیں اور ،سر کے بال کاٹنے وغیرہ کا بیان |
سوال
شادی شدہ عورت اور غیر شادی شدہ عورت دونوں کے لئے سر ، بھنوؤں اور پلکوں کے بالوں کے علاوہ تمام جسم کے بالوں اور چہرےکے بالوں کو صاف کرنے(ہٹانے ) کا کیا حکم ہے ؟ اسی طرح شادی شدہ عورت اور غیر شادی شدہ عورت دونوں کےلئے بھنوؤں کے درمیان کے بالوں کو صاف کرنے (ہٹانے)کا کیا حکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خواتین کے لیےاپنے چہرے پر خلافِ عادت آنے والے بال مثلاً داڑھی،مونچھ، پیشانی وغیرہ کے بال یا کلائیوں اور پنڈلیوں کے بال یا جسم کے دیگر بال (سر کے علاوہ) صاف کرنا جائز ہے، البتہ ان بالوں کو نوچ کرنکالنا مناسب نہیں، کیوں کہ اس میں بلاوجہ اپنے جسم کو اذیت دیناہے، پاؤڈر وغیرہ کے ذریعہ سے یا کسی ایسے طریقہ سے جس سے تکلیف نہ ہو ،یہ بال صاف کر لیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔
باقی عورت کے لیےبھنویں بنانا (دھاگا یا کسی اور چیز سے)یا اَبرو کے اطراف سے بال اکھاڑ کر باریک دھاری بنانا جائز نہیں، اس پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے، اسی طرح دونوں ابرؤں کے درمیان کے بال زیب وزینت کے حصول کے لیے کتروانا جائز نہیں،البتہ اگر اَبرو بہت زیادہ پھیلے ہوئے ہوں تو ان کو درست کرکے عام حالت کے مطابق (ازالۂ عیب کے لیے )معتدل کرنے کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار علی الدر المختار (6/ 373):
( والنامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


