| 86445 | روزے کا بیان | اعتکاف کا بیان |
سوال
ہمارا گاؤں شہر سے تقریباً 3 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ گاؤں کے لوگ نمازِ جمعہ کے لیے شہر جاتے ہیں کیونکہ گاؤں کی مسجد میں نمازِ جمعہ نہیں ہوتی۔ اب اگر کوئی شخص رمضان میں گاؤں کی مسجد میں اعتکاف کرے تو کیا وہ نمازِ جمعہ کے لیے شہر جا سکتا ہے؟ اور کیا اس سے اعتکاف پر کوئی اثر پڑے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسے گاؤں میں جہاں جمعہ کی نماز درست نہیں، وہاں اعتکاف میں بیٹھا شخص ظہر کی نماز ادا کرے گا۔ اگر وہ جمعہ کی نماز کے لیے شہر گیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔البتہ، اگر کوئی شخص شہر کی ایسی مسجد میں اعتکاف کر رہا ہو جہاں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی، تو اس کے لیے دوسری مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے نکلنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
(بدائع الصنائع 2/ 114)
لا يخرج المعتكف من معتكفه في الاعتكاف الواجب ليلا ولا ونهارا إلا لما لا بد له منه من الغائط والبول وحضور الجمعة؛ لأن الاعتكاف لما كان لبثا وإقامة؛ فالخروج يضاده ولا بقاء للشيء مع ما يضاده فكان إبطالا له وإبطال العبادة حرام؛ لقوله تعالى {ولا تبطلوا أعمالكم} [محمد: 33] إلا أنا جوزنا له الخروج لحاجة الإنسان إذ لا بد منها وتعذر قضاؤها في المسجد فدعت الضرورة إلى الخروج... وكذا في الخروج في الجمعة ضرورة؛ لأنها فرض عين ولا يمكن إقامتها في كل مسجد فيحتاج إلى الخروج إليها كما يحتاج إلى الخروج لحاجة الإنسان؛ فلم يكن الخروج إليها مبطلا لاعتكافه وهذا عندنا.
وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت.أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها. (بدائع الصنائع : 1/ 259)
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
17 ٖرجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


