03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ کی تقسیم سے قبل اپنا حصہ بھتیجے کے نام منتقل کرنے کا حکم
87547میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحوم کی 5 بیٹیاں اور 3 بیٹے ہیں۔ ان میں سے ایک بیٹی نے وراثت کی تقسیم سے پہلے اپنے حصے میں سے 20 مرلے زمین اپنے بھتیجے کے نام منتقل کر دی۔ اس کے علاوہ اس بیٹی کا کچھ حصہ اور بھی باقی تھا۔ بعد ازاں وہ بیٹی زمین کی تقسیم سے پہلے ہی انتقال کر گئی۔اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ زمین اس بھتیجے کو ملے گی یا تمام ورثاء اس میں شریک ہوں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب تک ترکہ تقسیم نہ ہوجائے، اس وقت تک تمام ورثاء اس میں مشترک ہوتے ہیں،جبکہ ہبہ کی گئی چیز پر الگ سے  قبضہ کرانا ضروری ہوتا ہے،اس لیے   قابل تقسیم مشترک زمین  کا  ہبہ اس کی حسی تقسیم سے پہلے  صحیح   نہیں ہے،لہٰذا اگرکوئی وارث حسی تقسیم سے پہلے  اپنا حصہ کسی دوسرے وارث یا غیر وارث کو ہبہ کر ے تو وہ درست نہ ہوگا۔

اس تفصیل کے مطابق مذکورہ زمین بھتیجے کو نہیں ملے گی بلکہ مرحومہ بیٹی ہی کی ملکیت میں رہے گی اور پھر اس کے ہی ورثہ میں تقسیم ہوگی،یعنی پہلے تمام جائیداد کو بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کرنا ہوگا،اس میں مرحومہ بیٹی کا جو حصہ بنے گا،وہ حصہ پھر اس مرحومہ کے ورثہ میں تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 223):

قال: "ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة" ،وقال الشافعي: تجوز في الوجهين؛ لأنه عقد تمليك فيصح في المشاع وغيره كالبيع بأنواعه، وهذا؛ لأن المشاع قابل لحكمه، وهو الملك فيكون محلا له، وكونه تبرعا لا يبطله الشيوع كالقرض والوصية. ولنا أن القبض منصوص عليه في الهبة فيشترط كماله والمشاع لا يقبله إلا بضم غيره إليه، وذلك غير موهوب، ولأن في تجويزه إلزامه شيئا لم يلتزمه وهو مؤنة القسمة، ولهذا امتنع جوازه قبل القبض لئلا يلزمه التسليم، بخلاف ما لا يقسم؛ لأن القبض القاصر هو الممكن فيكتفى به؛ ولأنه لا تلزمه مؤنة القسمة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 378):

‌والشيوع ‌من ‌الطرفين فيما يحتمل القسمة مانع من جواز الهبة بالإجماع، وأما الشيوع من طرف الموهوب له فمانع من جواز الهبة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - خلافا لهما، كذا في الذخيرة.

تكملة حاشية ابن عابدين = قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار ط الفكر (8/ 208):

ولو قال ‌تركت ‌حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه.

واقعات المفتین(110) :

وهبة حصة من العین لوارث أو لغیره تصح فیما لایحتمل القسمة، ولاتصح فیما یحتملها، قنیة في باب هبة الدین من کتاب الهبة".

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 18/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب